شراب کی صنعت کو 830 ارب ڈالر کا نقصان، نوجوان نسل کی عدم دلچسپی

alcohol alcohol

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

شراب کی صنعت کو گزشتہ چار سالوں میں 830 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ نوجوان نسل کی صحت مند طرز زندگی کی طرف رجحان ہے۔ بلومبرگ انڈیکس کے مطابق دنیا کی 50 بڑی بیئر، وائن اور اسپرٹ کمپنیوں کی مالیت جون 2021 کی چوٹی کے مقابلے میں 46 فیصد کم ہو گئی ہے، جس سے ڈائیجیو، پرنوڈ ریکارڈ اور ریمی کوئنٹریو جیسی بڑی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔

یہ کمی 2008 کے مالیاتی بحران کے مقابلے میں چار گنا زیادہ شدید ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شراب کی صنعت میں تیز رفتار ترقی کا دور ختم ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی عارضی معاشی بحران نہیں بلکہ ایک مستقل ساختی تبدیلی ہے۔

امریکا میں شراب نوشی 1939 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جہاں صرف 54 فیصد بالغ افراد شراب پیتے ہیں۔ پہلی بار امریکیوں کی اکثریت معتدل شراب نوشی کو بھی نقصان دہ سمجھتی ہے، جس کی وجہ صحت عامہ کے انتباہات ہیں جو شراب کو کینسر سے منسلک کرتے ہیں۔

اس رجحان کے خلاف لڑنے کے بجائے بڑی کمپنیاں غیر الکوحل مشروبات میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ڈائیجیو اور موئٹ ہینیسی جیسی کمپنیاں پریمیم غیر الکوحل اسپرٹ اور وائنز حاصل کر رہی ہیں تاکہ صحت مند طرز زندگی کے خواہاں صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔