ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کیف کے قریب ایک اسلحے کے گودام پر روسی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 38 تک پہنچ گئی ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے اس سال کا مہلک ترین حملہ قرار دیا۔ یہ حملہ جمعہ کی شب کیف کے نواحی گاؤں میلا میں ایک فوجی اسلحے کے گودام پر کیا گیا، جس میں گولہ بارود، بارودی سرنگیں اور ڈرونز موجود تھے۔ اس حملے میں زبردست دھماکہ اور آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں مزید دھماکے ہوئے اور آگ کے شعلے ارد گرد کے علاقے میں پھیل گئے۔ صدر زیلنسکی نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ امدادی کارکنوں نے زیادہ تر آگ بجھا دی ہے اور بم ڈسپوزل ٹیمیں جائے وقوعہ کو صاف کرنے میں مصروف ہیں ۔
صدر زیلنسکی کے مطابق 38 افراد ہلاک، 20 زخمی اور 4 لاپتہ ہیں۔ انہوں نے علاقے میں آلودگی کی شدید صورتحال کی بھی نشاندہی کی۔ یہ حملہ دو ماہ کے دوران کیف کے قریب اسلحے کے گودام پر دوسرا حملہ ہے، جس پر حکام نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ اسلحہ رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ کیا جا رہا ہے ۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز نے ممکنہ مجرمانہ غفلت کے الزام میں تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور صدر زیلنسکی نے کہا کہ اسلحہ گوداموں کو رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے ۔