ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی یونین نے امریکہ کے اس فیصلے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت روسی ڈیزل کی درآمد اور فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ماسکو کو مزید آمدنی فراہم کرے گا جو جنگ جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کالاس نے ایکس پر لکھا روسی ڈیزل پر پابندیاں معطل کرنے سے ماسکو کو مزید آمدنی ملتی ہے۔ یہ روس پر دباؤ کم کرنے کا وقت نہیں ہے، اور یورپ ایسا نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیر کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ پابندیوں کی فہرستوں کا سب سے بڑا سیٹ منظور کریں گے، جو 22ویں پابندیوں کے پیکج کا حصہ ہو گا۔ اس سے قبل 8 اکتوبر کو یورپی سفراء نے فوجی اور دوہری استعمال کے سامان سے منسلک 1500 سے زائد کمپنیوں اور افراد کو بلیک لسٹ کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ امریکہ نے حال ہی میں روسی ڈیزل کی درآمد پر پابندیاں اور عالمی منڈی میں اس کی فروخت پر ثانوی پابندیاں معطل کر دی تھیں۔ صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے صدر پوتن کا شکریہ ادا کیا تھا اور اسے بڑا معاہدہ قرار دیا تھا۔ یورپی یونین کے اس سخت موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد میں روس کے خلاف پابندیوں کی پالیسی پر واضح دراڑ پیدا ہو گئی ہے۔ یورپ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے ماسکو پر دباؤ کم کرتے ہیں اور جنگ کو طول دے سکتے ہیں۔