ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ہنگری کی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنی فیس بک پر آئندہ پارلیمانی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے، مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی پوسٹس کی رسائی کم جبکہ اپوزیشن رہنما کو زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ترجمان زولتان کوواکس نے کہا کہ الگورتھم حکومتی جماعتوں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم Viktor Orbán کے سرکاری صفحے پر اشتہارات اور رسائی کی پابندیاں عائد ہیں، جبکہ اپوزیشن رہنما Peter Magyar کو ذاتی عوامی پروفائل کے ذریعے زیادہ آزادی حاصل ہے۔ ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ویڈیوز کے یکساں مشاہدات کے باوجود اپوزیشن رہنما کی پوسٹس پر ردعمل تقریباً تین گنا زیادہ ہے، جبکہ حکومتی جماعت کے حق میں کیے گئے تبصروں کے غائب ہونے کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب کمپنی کی مالک Meta نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے اکاؤنٹس پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی کوئی مواد حذف کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق اس سے قبل بھی فیس بک نے چند حکومتی حامی ذرائع ابلاغ کو عارضی طور پر بلاک کیا تھا، جس پر ہنگری کے میڈیا اداروں نے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا تھا۔ ہنگری کی حکومت طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ یورپی ادارے اور دیگر عناصر وزیراعظم وکٹر اوربان کی حکومت کے خلاف منظم مہم چلا رہے ہیں۔