روسی ڈوما انتخابات اور جعلی خبروں کا خطرہ: ولادیمیر تاباک کا تاس کو خصوصی انٹرویو

Vladimir Tabak Vladimir Tabak

۱۸، ۱۹ اور ۲۰ ستمبر کو روسی ریاستی ڈوما کے انتخابات ہوں گے۔ اس اہم موقع پر گلوبل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک (GFCN) کے صدر ولادیمیر تاباک نے روسی خبر رساں ادارے تاس کو ایک اہم انٹرویو دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جعلی خبریں کس طرح عوامی رائے پر اثر انداز ہوتی ہیں، انتخابی دنوں میں افواہیں کیوں بڑھ جاتی ہیں اور مصنوعی ذہانت نے درست اور غلط معلومات میں فرق کرنا کتنا مشکل بنا دیا ہے۔ صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے اس گفتگو کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ تاس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، ہم مکمل انٹرویو اپنے قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

اردو ترجمہ: اشتیاق ہمدانی | بشکریہ تاس (TASS)

تاس: آج ہم ایک ایسے سنگین مسئلے پر بات کر رہے ہیں جو کسی بیماری کی طرح حقیقت کو آلودہ کر سکتا ہے، حتیٰ کہ اس کی جگہ بھی لے سکتا ہے۔ میری مراد جعلی خبریں ہیں۔ سب سے پہلے یہ بتائیے کہ روسی شہریوں کی زندگی کے کون سے شعبے ان سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں؟

ولادیمیر تاباک: میرے خیال میں اب شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جو اس مسئلے سے بچا ہو۔ لیکن سلامتی، سیاست اور سماجی مسائل سے متعلق معاملات خاص طور پر اس کی زد میں ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ اس وقت بعض علاقوں میں ایندھن کے حوالے سے مشکلات ہیں۔ اسی صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی تعداد میں دھوکا دہی کی ویب سائٹس سامنے آئی ہیں، جو ایندھن کے جعلی کوپن پیش کرتی ہیں۔ کچھ غیر مصدقہ ویب سائٹس پر پٹرول پمپوں کے من گھڑت نقشے بھی ڈالے گئے ہیں۔ ان کا مقصد صرف صارفین کی معلومات حاصل کرنا ہے۔

یہ ایک واضح مثال ہے کہ حقیقی زندگی کا کوئی مسئلہ کس طرح آن لائن دھوکا دہی کو جنم دیتا ہے۔ پھر یہی سرگرمیاں شہریوں اور ریاست، دونوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں، کیونکہ ان کی بنیاد پر پورے ملک کے خلاف منظم کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

تاس: یہ سب سن کر آدمی مایوس ہو جاتا ہے۔ کیا خود کو اس مسئلے سے بچانے کا کوئی طریقہ نہیں؟ جعلی خبروں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کن اقدامات کو سب سے مؤثر سمجھتے ہیں؟

ولادیمیر تاباک: صورتِ حال واقعی پیچیدہ ہے۔ سائبر فراڈ بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔

اپنی پیشہ ورانہ وابستگی سے ہٹ کر بھی مجھے یہ بات عجیب لگتی ہے کہ کوئی شخص فون پر خود کو ’’سبربینک کا نمائندہ‘‘ بتائے اور پھر آپ کی بات کسی ’’ایف ایس بی کے نمائندے‘‘ سے کروا دے۔ یا کوئی مبینہ ’’ایف ایس بی افسر‘‘ اپنے دفتر میں بیٹھ کر ویڈیو کال کرے اور آپ پر الزامات لگانے لگے۔

تاس کی وضاحت: یہاں روس کے سب سے بڑے بینک، سبربینک، اور وفاقی سلامتی سروس، ایف ایس بی، کے جعلی نمائندوں کا ذکر ہے۔ دھوکے باز کال کو سرکاری نوعیت کا ظاہر کرکے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اس دھوکے میں آ جاتے ہیں۔ دوسری طرف ٹیکنالوجی مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ اب ڈیپ فیکس بھی موجود ہیں۔

’’ڈائیلاگ ریجنز‘‘ کے سروے کے مطابق، آج 64 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ ڈیپ فیکس کیا ہوتے ہیں۔ ستمبر 2025 میں یہ شرح 59 فیصد تھی۔ مجموعی طور پر 80 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ انہیں غیر معتبر معلومات کا سامنا ہوتا ہے۔

اس سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ ہمیں لوگوں کی میڈیا خواندگی بڑھانے اور معلومات پر اعتماد کا ایک قابلِ بھروسا ماحول بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔ اس کے بعد بھی فرد کی اپنی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔ بعض معاملات میں بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، لیکن جب کوئی اطلاع پہلی بار کسی شخص کے سامنے آتی ہے تو اس وقت اسے پرکھنے کی ذمہ داری خود اس شخص پر ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ درست معلومات بروقت اور مناسب انداز میں پہنچانا ہماری ذمہ داری نہیں رہا۔ ہمیں ان جھوٹی اطلاعات کی تردید بھی کرنی چاہیے جو بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہوں۔

ریاست بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے الگ نہیں ہو سکتی۔ عوام کو آگاہ کرنا، غلط معلومات کی تردید کرنا، تعلیم و تربیت دینا اور سرکاری اداروں کو اس مسئلے سے نمٹنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔

لیکن آج غلط معلومات جس بڑے پیمانے پر پھیلتی ہیں، ان کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب لوگ معلومات کو سمجھنے اور جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کم از کم اتنی تنقیدی سوچ ضرور ہونی چاہیے کہ وہ جو کچھ پڑھیں، اسے فوراً سچ نہ مان لیں۔

Vladimir Tabak

تاس: مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ جعلی خبروں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ کئی ممالک میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد پر لازمی لیبل ہونا چاہیے۔ کیا آپ اسے ضروری سمجھتے ہیں؟ کیا اس بارے میں حکومتی یا دوسرے اداروں سے آپ کی بات چیت ہو رہی ہے؟

ولادیمیر تاباک: تمام ممالک کسی نہ کسی مرحلے پر ایسے مواد کے لیے ضابطے ضرور بنائیں گے۔ بعض ممالک میں اس کی ابتدائی مثالیں موجود بھی ہیں۔

اصل بات توازن قائم کرنا ہے۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت مواد کی تیاری کو سستا اور تیز بناتی ہے۔ یہ ایک مفید سہولت ہے، جسے دفتری کارروائیوں اور ضابطوں کے بوجھ تلے نہیں دبنا چاہیے۔

دوسری طرف یہی ٹیکنالوجی جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ہمیں ایسا راستہ نکالنا ہوگا جس میں جائز کام کرنے والوں پر غیر ضروری پابندیاں نہ لگیں اور نقصان دہ سرگرمیوں کا منظم انداز میں مقابلہ بھی کیا جا سکے۔

مواد بنانے کا طریقہ بھی بہت بدل گیا ہے۔ پہلے اس نوعیت کا مواد زیادہ تر چھوٹے، ماہر گروہ تیار کرتے تھے، جو خود مصنوعی ذہانت کی ترقی سے وابستہ ہوتے تھے۔ اب یہ ٹیکنالوجی عام لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ مثال کے طور پر، انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جو مواد آپ دیکھتے ہیں، اس کا 50 سے 60 فیصد سے بھی زیادہ حصہ خود صارفین بناتے ہیں۔

اس لیے آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ مستقبلِ قریب میں ایسے مواد پر شناختی لیبل لگانے کا فیصلہ ناگزیر ہے۔

تاس: چند روز بعد ریاستی دوما کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے موقع پر جعلی خبروں کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کیا آپ کو بیرونِ ملک سے کسی گمراہ کن اطلاعاتی مہم کی تیاری نظر آ رہی ہے؟ کن ذرائع سے ایسی خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں اور کن موضوعات کو استعمال کیا جائے گا؟

ولادیمیر تاباک: انتخابی عمل کی ساکھ خراب کرنے کے کچھ پرانے اور آزمودہ طریقے ہیں۔ ان میں ووٹنگ سے متعلق ویڈیوز بھی شامل ہیں۔ اس کے لیے کسی نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت بھی نہیں؛ پرانی ویڈیو استعمال کرکے بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔

ایک سادہ مثال یہ ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر بناوٹی مناظر کی ویڈیو تیار کی جائے اور دیکھنے والے کو یقین دلایا جائے کہ یہ سب اسی وقت ہو رہا ہے۔ ہمیں اندازہ ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔

کچھ بیانیوں کا ووٹنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ان کا مقصد انتخابی عرصے کو حکومت اور ملک کے لیے مشکل بنانا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے فوجی متحرک کاری کی خبر شاید سب سے نمایاں مثال ہے۔

اس کا انتخابات پر براہِ راست اثر نہیں پڑتا۔ اگر واقعی فوجی متحرک کاری کا اعلان ہو تو صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے، لیکن اس سے متعلق افواہیں بھی بعض طبقات اور پورے معاشرے میں شدید تناؤ پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روسی صدر کو بھی اس موضوع پر بات کرنا پڑی، کیونکہ یہ اطلاع بہت دور تک پھیل چکی تھی۔

رائے عامہ کے سروے اور تجزیے اپنی جگہ، مگر ایک سادہ پیمانہ آپ کے ذاتی چیٹ گروپ بھی ہیں۔ اگر آپ کے جاننے والے کسی موضوع پر بار بار بات کر رہے ہوں تو سمجھ لیجیے کہ وہ واقعی لوگوں کے ذہنوں پر سوار ہے۔

میں جس ذاتی چیٹ گروپ کا حصہ ہوں، وہاں اس پر بات ہوئی۔ جس ملاقات میں گیا، کسی نہ کسی نے یہی سوال پوچھا۔

یہ افواہ بنانے اور پھیلانے والوں نے یقیناً اس بات کو سامنے رکھا کہ پچھلے مرحلے میں کچھ لوگ خوف زدہ ہو کر ملک چھوڑ گئے تھے اور ان کے والدین بھی شدید دباؤ میں رہے تھے۔ اس لیے ہمارے مخالفین کا مقصد واضح ہے۔ ہمارے مشاہدے میں یہ اس وقت کے سب سے نمایاں بیانیوں میں سے ایک ہے۔

تاس: اگر ان کارروائیوں کے ماخذ کا پتا لگایا جائے تو روس کے خلاف سب سے زیادہ اطلاعاتی حملے کن ممالک سے ہوتے ہیں؟ اور وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

ولادیمیر تاباک: پہلے نمبر پر یوکرین ہے، اور اس کی وجہ واضح ہے۔ ہم مسلح تصادم کی حالت میں ہیں اور اطلاعاتی جنگ اسی بڑی جنگ کا حصہ ہے۔ اس لیے یہ عجیب ہوگا اگر اس معاملے میں کسی دوسرے ملک کو یوکرین سے آگے رکھا جائے۔

یوکرین میں ’’مرکز برائے اطلاعاتی و نفسیاتی کارروائیاں‘‘، یعنی CIPsO، ایک الگ یونٹ ہے۔ یہ باقاعدہ مسلح افواج کا حصہ ہے اور فوجی یونٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔

مختلف معاملات میں اس کی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔ بحران سے متعلق کوئی بھی موضوع ہو، وہ اس میں شامل ہو کر اسے زیادہ سے زیادہ بڑھانے اور مزید تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ساتھ ہی کچھ دوسرے ممالک بھی خاصا جارحانہ رویہ رکھتے ہیں اور ہمارے خلاف کام کرنے کے لیے مخصوص ادارے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے برطانیہ کا نام آتا ہے، جو اطلاعاتی میدان میں کافی جارحانہ انداز اختیار کرتا ہے۔

اس کے کئی طریقے ہیں۔ ان کے پاس ایسے ذرائع ہیں جنہیں مستند سمجھا جاتا ہے؛ میڈیا ادارے اور پلیٹ فارم، جن کی مختلف گرانٹس یا براہِ راست فنڈنگ کے ذریعے مدد کی جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی استعمال ہوتی ہے اور آبادی کے مخصوص طبقات کو ہدف بھی بنایا جاتا ہے۔ یہ کام کسی موضوع کو اطلاعاتی فضا میں پھیلانے سے لے کر زیادہ پیچیدہ کارروائیوں تک جاتا ہے۔

لیکن اس شدید اطلاعاتی محاذ آرائی کے باوجود ہمیں عام لوگوں کا کردار نہیں بھولنا چاہیے۔ بہت سے لوگ کسی بدنیتی کے بغیر بھی غلط معلومات آگے پہنچا دیتے ہیں۔

یہ بات ہمیں دوبارہ آگاہی اور سمجھ بوجھ کی اہمیت کی طرف لے جاتی ہے۔ ہمیں ہر وقت یہ کہنا چھوڑنا ہوگا کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ ہمارے مخالف کی کارروائی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ جعلی خبریں پہلے بھی موجود تھیں۔

جب لوگ غیر یقینی کیفیت میں ہوں یا اپنی پریشانیوں سے متعلق سوالات کے جواب نہ جانتے ہوں تو بعض اوقات خود ہی عجیب جواب گھڑ لیتے ہیں، یا بالکل غیر مصدقہ ذرائع میں جواب ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ اس لیے عام لوگوں کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ معلومات کی تصدیق کرنا سیکھیں۔

تاس: تو آپ کے خیال میں بڑے پیمانے پر تعلیم اور آگاہی کی ضرورت ہے؟

ولادیمیر تاباک: جی ہاں۔

تاس: اب اس تنظیم کی طرف آتے ہیں جس کے آپ سربراہ ہیں۔ گلوبل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک 2025 میں قائم ہوا تھا۔ اب تک کے سفر کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟ کام کی نوعیت، ذمہ داریوں اور نیٹ ورک کے حجم میں کیا تبدیلی آئی ہے؟

ولادیمیر تاباک: مجموعی طور پر میرے خیال میں یہ منصوبہ کامیاب رہا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ابتدا میں ایک رضاکارانہ کوشش تھی۔ اسے ہم نے — یعنی روسی خبر رساں ادارے تاس اور ’’نیو میڈیا ورکشاپ‘‘ نے — مل کر شروع کیا تھا۔

ہم پر امریکی انتخابات میں مبینہ مداخلت کا الزام لگنے کے بعد، امریکہ میں ایف بی آئی کے خلاف ہمارے مقدمے کی خاصی تشہیر ہو رہی تھی۔ ہم نے اسی دوران یہ منصوبہ قائم کیا۔ بالکل صاف بات کروں تو ابتدا میں یہ کسی حد تک تعلقاتِ عامہ کا ایک قدم تھا۔

لیکن پھر مختلف ممالک کے متعلقہ شعبوں سے وابستہ لوگوں نے دلچسپی دکھائی۔ آج ہماری تنظیم میں 55 ممالک کے 125 سے زیادہ صحافی شامل ہیں۔

ہر بار فورم میں مختلف ممالک سے آنے والے مقررین اور شرکا کی تعداد بڑھتی ہے۔

تاس کی وضاحت: یہاں ’’ڈائیلاگ اباؤٹ فیکس 4.0‘‘ فورم کا ذکر ہے۔

فورم کے مہمانوں کی مجموعی تعداد پہلے ہی دو سے تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں روسی شرکا بھی ہیں، لیکن ایک بڑا حصہ دوسرے ممالک سے آتا ہے۔ ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہیں اس وقت غیر دوست سمجھا جاتا ہے۔ وہاں بھی ایسے صحافی اور میڈیا ماہرین موجود ہیں جو ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔

ہم نے کئی دلچسپ اور نمایاں تحقیقی رپورٹس جاری کی ہیں اور ایک جامع تعلیمی پروگرام بنایا ہے۔ بڑے بین الاقوامی اجتماعات میں GFCN کے ’’ذمہ دارانہ فیکٹ چیکنگ کے ضابطے‘‘ کی بنیاد پر متعدد یادداشتیں منظور ہوئی ہیں۔

بھارت میں حالیہ سربراہی اجلاس کے موقع پر بریکس کے وزرائے مواصلات کے بارہویں اجلاس کے حتمی اعلامیے میں بھی ہمارے ضابطے کی بعض شقیں شامل کی گئیں۔ اب چین اور قازقستان کے ساتھیوں کے ساتھ بھی ہمارا قریبی تعاون شروع ہو چکا ہے۔

قازقستان کے انتخابات میں GFCN کا ایک ماہر آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ، یعنی سی آئی ایس، کے مبصر مشن کا حصہ تھا۔ اس سے پہلے ہمارے نمائندے وینزویلا گئے تھے۔

ہمیں مختلف تقریبات میں بلایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے: اس وقت GFCN کو کسی قسم کی فنڈنگ حاصل نہیں ہے۔ اس کے ارکان کے اپنے دوسرے مستقل کام ہیں۔ ہمارے مخالفین کی زبان میں کہیں تو یہ ہمارا ’’گلٹی پلیژر‘‘ ہے، یعنی ایسا شوق جس سے لطف بھی آتا ہو اور جس پر احساسِ جرم بھی جوڑا جائے۔

صرف جذبے سے شروع کیے گئے منصوبے کے طور پر اس نیٹ ورک نے میری توقعات سے بڑھ کر کام کیا ہے۔

پوئنٹر انسٹی ٹیوٹ کی مالی معاونت سے چلنے والی تنظیم، انٹرنیشنل فیکٹ چیکنگ نیٹ ورک، تقریباً پانچ یا چھ مرتبہ اپنے مضامین میں ہمیں کریملن کا جھوٹا پروپیگنڈا نیٹ ورک قرار دے چکی ہے۔ میں اسے بڑی کامیابی سمجھتا ہوں۔ جب میں لگائے گئے وسائل اور حاصل ہونے والے نتائج کا موازنہ کرتا ہوں تو نیٹ ورک کی کارکردگی سے بہت مطمئن ہوتا ہوں۔

تاس: اطلاعاتی مخالفین کا ذکر ہو چکا۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں، آپ نے چین اور قازقستان کو اپنے اتحادیوں میں شمار کیا ہے؟

ولادیمیر تاباک: دراصل ایسے بہت سے ممالک ہیں۔ ہم ایشیا و بحرالکاہل کی خبر رساں ایجنسیوں کی تنظیم، اوانا (OANA)، کے ساتھ قریبی اشتراک بڑھا رہے ہیں۔ اس وقت تاس کے ڈائریکٹر جنرل آندرے کوندرشوف اس کے صدر ہیں۔

اس تعاون میں ایشیا، بحرالکاہل، لاطینی امریکہ اور سی آئی ایس کے ممالک شامل ہیں۔ کچھ زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، کچھ کم۔ ہماری طرف سے تعاون کے دروازے کھلے ہیں۔

ہماری ویب سائٹ کا ایک تعلیمی حصہ ہے۔ اس میں حقائق کی جانچ، میڈیا خواندگی اور اوپن سورس انٹیلی جنس، یعنی OSINT، کے آلات سے متعلق 170 سے زیادہ مضامین اور ویڈیوز موجود ہیں۔ یہ سارا مواد صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

تاس کی وضاحت: OSINT سے مراد عوامی طور پر دستیاب ذرائع سے معلومات کی تحقیق ہے۔

ہمارا مؤقف واضح ہے۔ ہم نظریاتی قیادت کا دعویٰ نہیں کر رہے۔ ہم ان لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا چاہتے ہیں جو اس شعبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

کچھ ممالک زیادہ سرگرم ہیں، جبکہ بعض ممالک کے انفرادی نمائندے خاصی دلچسپی لیتے ہیں۔ میرے خیال میں جیسے جیسے اس مسئلے کی اہمیت بڑھے گی، لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھتی جائے گی۔

تاس: آپ نے نیٹ ورک کے تعلیمی کردار کی بات کی۔ نوجوان صحافیوں، فیکٹ چیکرز اور محققین میں کون سی خوبیاں پیدا کرنا ضروری ہیں؟ آپ کس بات پر خاص توجہ دیتے ہیں؟

ولادیمیر تاباک: ایک لفظ ہے: تجسس۔ میرے خیال میں سب سے اہم چیز ایک متجسس ذہن ہے۔

اس منصوبے کو شروع کرانے میں میرا مرکزی کردار تھا، لیکن میں خود نہ OSINT کا ماہر ہوں اور نہ پیشہ ور فیکٹ چیکر۔

تاس کی وضاحت: OSINT کا ماہر عوامی طور پر دستیاب ذرائع سے معلومات جمع کرتا، ان کا تجزیہ کرتا اور ان کی تشریح کرتا ہے۔ فیکٹ چیکر معلومات کی درستگی کی جانچ کرتا ہے۔

میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ لوگوں کو مناسب ماحول اور آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ جن لوگوں میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو حقائق کی جانچ کی صلاحیت نظر آتی ہے، وہ بہت متجسس ہوتے ہیں۔

وہ باریک بینی سے کام لیتے ہیں۔ کبھی کبھی کچھ زیادہ شکی بھی ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے لوگ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی اچھا کام کر سکتے ہیں۔

یقیناً میں قدرے مبالغہ کر رہا ہوں، لیکن مناسب حد تک شک کرنا ضروری ہے۔ مراد اندھا یا بے بنیاد عدم اعتماد نہیں ہے۔

ہمیں یہ سمجھ کر چلنا چاہیے کہ ہمارا اطلاعاتی ماحول بہت پیچیدہ ہے اور اس میں لاکھوں غیر مصدقہ ذرائع موجود ہیں۔ لیکن انٹرنیٹ ہمیں یہ سہولت بھی دیتا ہے کہ خفیہ یا محدود رسائی والے طریقوں کے بغیر بہت سی معلومات کی تصدیق کر سکیں۔

تنقیدی سوچ اور تحقیق کے ان آلات کو استعمال کرنے کی مہارت، دونوں مل جائیں تو باصلاحیت لوگوں کو آگے بڑھنے کا بہترین موقع ملتا ہے۔

تاس: ہماری گفتگو سے لگتا ہے کہ حقائق کی جانچ اب صرف صحافیوں کا کام نہیں رہی۔ کیا اسے بین الاقوامی تعاون کا ایک الگ شعبہ کہا جا سکتا ہے؟ آپ عالمی تعاون کا کیا طریقہ تجویز کریں گے؟

ولادیمیر تاباک: یہ کہنا مشکل ہے کہ عالمی تعاون کی شکل کیا ہونی چاہیے۔ لیکن میں نے اس پہلو پر سوچا ہے کہ جنگ کے بھی کچھ مسلمہ اصول ہوتے ہیں۔ ان کی خلاف ورزی کی جائے تو ایسے ادارے ہوتے ہیں جہاں پابندیوں یا دوسرے نتائج پر غور کیا جاتا ہے۔

مثلاً، اطلاعاتی جنگ کے دوران کسی نوعمر کو قتل یا آتش زنی پر اکسانا کیا بنیادی طور پر روایتی جنگ میں کلسٹر گولہ بارود استعمال کرنے جیسا نہیں؟ میرے خیال میں ایسا ہی ہے۔

کیونکہ میں اطلاعاتی محاذ آرائی کو جس طرح سمجھتا ہوں، یہ اس کی حدود سے آگے کی بات ہے۔ آج ہماری جن مخالفین کے ساتھ اطلاعاتی جنگ جاری ہے، ان کے ساتھ بھی کچھ اصول ہونے چاہییں۔

بدقسمتی سے ان اصولوں کو طے کرنے کا کوئی ڈھانچا اس وقت موجود نہیں۔ موجودہ حالات میں عالمی سطح پر ایسا انتظام قائم کرنا مشکل ہوگا۔ ہم جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کو سمجھتے ہیں، خاص طور پر اگر یہ کوشش ہماری طرف سے شروع کی جائے۔ لیکن میرے خیال میں یہ اصول بننے چاہییں۔ یہی اگلا قدم ہے۔

حقائق کی جانچ کا دنیا بھر میں بہت چرچا ہے، مگر اس کے باوجود یہ اب تک صحافت کا بنیادی حصہ نہیں بن سکی۔ دوسری طرف خود صحافت بھی بدل گئی ہے۔

میں ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف جرنلزم سے فارغ التحصیل ہوں۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ آج کی صحافت اور پندرہ سال پہلے کی صحافت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

بہت سے بڑے اشاعتی ادارے آج یہ سوچ رہے ہیں کہ اپنا وجود کیسے برقرار رکھیں۔ لوگوں کے خبریں اور مواد حاصل کرنے کے طریقے بدل گئے ہیں، اور ان سے جڑے پلیٹ فارموں کی آمدنی کے طریقے بھی۔ اس ماحول میں بڑے اداروں کے لیے پہلے جیسے پیمانے پر کام جاری رکھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ فیکٹ چیکنگ صحافت کا حصہ کیسے بنے گی۔ بڑا سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں خود صحافت کا کیا ہوگا۔

میرے نزدیک حقائق کی جانچ صرف صحافتی کام نہیں۔ روزمرہ زندگی میں ہر بالغ شخص کو اپنی حفاظت کے لیے اس کی کچھ بنیادی مہارتیں آنی چاہییں۔

پیشہ ورانہ سطح پر اس میں ایسے لوگوں کے گروہ شامل ہیں جو نجی کمپنیوں، ریاست یا خود اپنے کام کے لیے معلومات کی جانچ کرتے ہیں، جیسے تحقیق و تفتیش کرنے والے اور متعلقہ شعبوں کے افراد۔

تاس: سچ کہوں تو آپ کی گفتگو سن کر ان موضوعات کو مزید سمجھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ 22 ستمبر کو ’’ڈائیلاگ اباؤٹ فیکس 4.0‘‘ فورم ہونے جا رہا ہے، جہاں ان سب معاملات پر تفصیل سے بات ہو سکے گی۔

ولادیمیر تاباک: جی ہاں، وہاں ہماری پریزنٹیشنز ہوں گی۔ ہم روسی وزارتِ خارجہ کے بہت شکر گزار ہیں، جس نے ان تمام برسوں میں فورم کی حمایت کی۔ اس کی مدد کے بغیر اتنے بڑے پیمانے کی تقریب منعقد کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اس سال روسی وزیرِ خارجہ سرگئی وکتورووچ لاوروف خود فورم میں شرکت کریں گے۔ ہماری درخواست قبول کرنے پر ہم ان کے بہت ممنون ہیں۔

ہم وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا ولادیمیروونا زاخارووا کے بھی شکر گزار ہیں، جن کی مستقل اور بھرپور حمایت ہمیں حاصل رہی ہے۔

تاس: فورم چوتھی بار ہو رہا ہے۔ اس مرتبہ کیا خاص ہوگا اور کن موضوعات کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی؟

ولادیمیر تاباک: میں کسی ایک فورم کو خاص قرار دینا پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس سے پہلے ہونے والے فورمز کی اہمیت کچھ کم محسوس ہوتی ہے۔

میرے خیال میں اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کا حلقہ بڑا، مضبوط اور وسیع ہو رہا ہے۔ زیادہ اعلیٰ سطح کے نئے بین الاقوامی منصوبے سامنے آ رہے ہیں۔ کئی ممالک کے ساتھ بات چیت بھی آگے بڑھی ہے۔

میرے لیے یہ باہمی اتفاق کو عملی اور باقاعدہ شکل دینے کا موقع ہے؛ کہیں رسمی ماحول میں اور کہیں غیر رسمی طور پر۔ ساتھ ہی اس مسئلے پر دوبارہ سب کی توجہ مرکوز ہوتی ہے، جس پر میں، ’’ڈائیلاگ‘‘ کے میرے ساتھی اور ہمارے شراکت دار کئی سال سے کام کر رہے ہیں۔

تاس: شرکا کی تعداد اور فورم کے حجم کے بارے میں آپ کی کیا توقعات ہیں؟

ولادیمیر تاباک: ہر سال ہمارا فورم پہلے سے بڑا ہوتا ہے۔ اس سال بھی پچھلے سال سے زیادہ لوگ شریک ہوں گے۔ اس لحاظ سے یقیناً یہ بڑا ہوگا۔

لیکن ہمارے لیے صرف تعداد اہم نہیں۔ ہم سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ نمائندگی کس سطح کی ہے اور شرکت کرنے والے ماہرین کا علمی اور پیشہ ورانہ مقام کیا ہے۔ اس بار یہ معیار بھی پچھلے برسوں سے بلند ہے، اور ہمارے لیے یہ ایک اہم کامیابی ہے۔

تاس: ہمیں فورم کا انتظار رہے گا۔ انٹرویو کے لیے بہت شکریہ۔