ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
فرانس کے ریاستی کونسل کے رکن Arnaud Klarsfeld نے کہا ہے کہ یورپ کو یوکرین کے معاملے میں روس کے مفادات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ڈونباس اور اوڈیسا جیسے علاقوں کے حوالے سے۔ فرانسیسی ٹی وی چینل CNews پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روسیوں کے لیے یوکرین کا ایک حصہ روس سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اوڈیسا ایک ایسا شہر ہے جہاں روسی زبان بولی جاتی ہے جبکہ ڈونباس کو بھی روس سے منسلک خطہ سمجھا جاتا ہے، جہاں کے لوگوں کے احساسات روس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کلارسفیلڈ نے کہا کہ مغربی ممالک کو ایک ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جس میں ماسکو کے خدشات اور مفادات کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین یہ جنگ نہیں جیت سکتا، اور اگر نیٹو اس تنازع میں براہ راست شامل ہوا تو یہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک روس کے ساتھ براہ راست جنگ نہیں چاہتے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایک سیاسی اور سفارتی سمجھوتہ کیا جائے۔ اسی موضوع پر فِن لینڈ کے صدر Alexander Stubb نے 5 مئی کو کہا تھا کہ یورپ کو یوکرین کی ضرورت روس کو روکنے کے لیے ہے، اور یوکرینی افواج کو اس وقت خطے کی سب سے بڑی اور جدید فوج قرار دیا تھا۔ ادھر ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے بعض رہنما یوکرین جنگ کے تسلسل کو اپنی سیاسی بقا اور معاشی مفادات سے جوڑ رہے ہیں، اور عوام میں جنگی جذبات کو بڑھا رہے ہیں جبکہ یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ روس جلد کسی یورپی ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔