یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں ہیٹ ویو سے کم از کم پانچ افراد ہلاک

Hot in Europe Hot in Europe

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہیں جبکہ فرانس میں درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھنے کے باعث کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق ملک کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق جنوبی شہر کارپنترا میں دو کمسن بچے، جن کی عمریں دو اور چار سال تھیں، ایک گاڑی میں مردہ پائے گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچوں کی ہلاکت شدید گرمی اور گاڑی کے اندر درجہ حرارت بڑھ جانے کے باعث ہوئی۔ دوسری جانب شہر بوردو کے نواحی علاقوں میں تین بزرگ افراد اپنے گھروں میں مردہ پائے گئے، جن کی اموات کا تعلق بھی شدید گرمی سے جوڑا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گرمی سے بچنے کے لیے ساحلوں، دریاؤں، جھیلوں اور سوئمنگ پولز کا رخ کرنے والے افراد میں حادثات بھی بڑھ گئے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کم از کم 13 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے۔

فرانسیسی حکومت نے ملک کے نصف سے زائد علاقوں میں شدید گرمی کے حوالے سے اعلیٰ ترین ریڈ الرٹ نافذ کر دیا ہے۔ شدید موسم کے باعث درجنوں ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ ہزاروں اسکولی کلاسوں کو ملتوی یا دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ، جرمنی، بیلجیم، اٹلی اور اسپین میں بھی شدید گرمی کے باعث وارننگز جاری کی گئی ہیں۔ برطانوی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جو معمول سے کہیں زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کے کئی ممالک میں عمارتیں سرد موسم کو مدنظر رکھ کر تعمیر کی گئی ہیں اور وہاں ایئر کنڈیشننگ کا نظام محدود ہے، جس کے باعث شدید گرمی کے اثرات مزید خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ بعض موسمیاتی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ ہیٹ ویو 2003 کی تباہ کن گرمی کی لہر جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں یورپ بھر میں ہزاروں اضافی اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔