اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان میں نوجوانوں میں دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر خطرناک بیماریوں میں اضافہ ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اسباب پر طبی ماہرین نے توجہ دلانا شروع کر دی ہے۔ کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر سید جاوید سبزواری کے مطابق فصلوں پر استعمال ہونے والی جراثیم کش ادویات انسانی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہیں، خصوصاً جب پھلوں اور سبزیوں کو مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں فصلوں پر جراثیم کش ادویات کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے، جس کے باعث ان کے باقی ماندہ اثرات (ریزیڈیوز) خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ادویات فصلوں کو کیڑوں سے بچانے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں، تاہم ان کا بے تحاشا استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض پھلوں جیسے امرود اور آڑو کی کاشت میں بار بار اسپرے کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، جس کے بغیر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ تاہم اس عمل نے خوراک کی قدرتی خصوصیات کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ زمینوں پر رہائشی کالونیوں کی تعمیر اور قدرتی ماحولیاتی نظام میں مداخلت کے باعث پرندوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جو قدرتی طور پر نقصان دہ کیڑوں کو ختم کرتے تھے۔
ڈاکٹر جاوید سبزواری نے خبردار کیا کہ نوجوانوں میں دل کے امراض، شوگر اور کینسر جیسے مسائل میں اضافہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام میں صحت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنی خوراک کے انتخاب اور استعمال میں احتیاط برت سکیں۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی ماہرین کی مشاورت سے قدرتی کھادوں اور متبادل طریقوں کو فروغ دیا جائے، جبکہ زرعی ادویات کے بے جا استعمال کو کنٹرول کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی صحت کے تحفظ کے لیے پائیدار زرعی پالیسی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔