ماسکو (صداۓ روس)
اقوامِ متحدہ میں روس کی قائم مقام مستقل مندوب **انا یوسٹیگنیوا** نے کہا ہے کہ شام میں عدم استحام پیدا کرنے والا سب سے بڑا عنصر اسرائیل کی کارروائیاں ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے شام کے مقبوضہ علاقوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کے منصوبوں اور شامی سرزمین میں زمینی و فضائی دراندازیوں کی سخت مذمت کی۔ روسی مندوبہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران شام میں بعض مثبت پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی ہیں، جن میں ملکی علاقائی سالمیت کی بحالی اور ریاستی اداروں کے استحکام کی کوششیں شامل ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ملک اب بھی متعدد داخلی مسائل اور بیرونی مداخلت کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے، جو استحکام کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے دریائے فرات کے طاس میں حالیہ سیلابی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس قدرتی آفت نے دسیوں ہزار افراد کو متاثر کیا جبکہ اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
انا یوسٹیگنیوا نے زور دیا کہ شام کے لیے انسانی امداد کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کی تعمیر و ترقی میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے تاکہ ملک کو پائیدار استحکام کی جانب گامزن کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ روس شام کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے اور اسی سلسلے میں شامی طلبہ کو روسی جامعات میں مفت تعلیم کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔