پاکستان کے مارگلہ ہلز اور ایوبیہ نیشنل پارک میں تیندووں کی آپسی لڑائی اور چیلنجز

Leopard Leopard

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

پاکستان میں پائے جانے والے “کامن لیپرڈ” (Common Leopard) یعنی عام تیندوے ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک انتہائی اہم حصہ ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے مضافات میں واقع مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور خیبر پختونخوا کے خوبصورت پہاڑی سلسلے میں پھیلا ہوا ایوبیہ نیشنل پارک تیندووں کے سب سے اہم اور محفوظ قدرتی مسکن سمجھے جاتے ہیں۔ اکثر مقامی خبروں اور سوشل میڈیا پر ان دو علاقوں میں تیندووں کی آپسی لڑائیوں یا ان کے غراہٹوں کا تذکرہ ہوتا ہے، جس سے عوام میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید یہ خونی تصادم ان کی پہلے سے کم ہوتی ہوئی تعداد کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں。 تاہم، سائنسی وائلڈ لائف ریسرچ اس مفروضے کو مسترد کرتی ہے۔
تیندووں کی فطرت کو سمجھنے والے ماہرین کے مطابق، مارگلہ ہلز اور ایوبیہ کے جنگلات میں ان کی آپسی لڑائی دراصل ایک فطری اور صحت مند علامت ہے。 تیندوا ایک انتہائی خود مختار جانور ہے جو اپنے شکار اور نسل بڑھانے کے لیے مخصوص علاقے (Territory) پر مکمل حقِ ملکیت رکھتا ہے۔ جب مارگلہ ہلز کے ٹریلز یا ایوبیہ کے گہرے جنگلات میں دو بالغ نر تیندوے آمنے سامنے آتے ہیں، تو وہ اپنی حدود کی حفاظت کے لیے لڑتے ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ سردیوں کے موسم میں جب مری اور ایوبیہ کے اونچے مقامات پر برف باری اور خوراک کی کمی ہوتی ہے، تو تیندوے نیچے مارگلہ ہلز کی طرف ہجرت کرتے ہیں。 اس موسمی نقل و حرکت کی وجہ سے مختلف تیندووں کے علاقے آپس میں ٹکراتے ہیں اور ان کے درمیان لڑائی کے واقعات پیش آتے ہیں。 یہ لڑائیاں جنگل کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں تاکہ صرف سب سے طاقتور اور صحت مند تیندوا ہی اگلی نسل کو آگے بڑھا سکے。
مارگلہ ہلز اور ایوبیہ نیشنل پارک میں تیندووں کی آبادی کو درپیش اصل خطرہ ان کی آپسی لڑائیاں نہیں، بلکہ بڑھتا ہوا انسان اور جانور کا تصادم (Human-Leopard Conflict) ہے۔ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (IWMB) اور ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) کی کیمرہ ٹریپنگ رپورٹس کے مطابق مارگلہ ہلز میں چند خاندانوں پر مشتمل تیندووں کی ایک پائیدار آبادی موجود ہے، لیکن شہر کی بڑھتی ہوئی توسیع، سیاحت کا دباؤ اور ٹریلز پر انسانوں کی حد سے زیادہ مداخلت ان کے ماحول کو بگاڑ رہی ہے。 ایوبیہ نیشنل پارک کے اطراف میں آبادی بڑھنے اور جنگلی شکار کی کمی کی وجہ سے تیندوے اکثر مقامی دیہاتیوں کے مویشیوں (جیسے بکریوں اور کتوں) پر حملہ کرتے ہیں。 اس کے نتیجے میں دیہاتیوں کی جانب سے انتقامی کارروائیوں میں تیندووں کو زہر دینے یا گولی مارنے کے واقعات سامنے آتے ہیں، جو ان کی نسل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔
ایک اور سنگین چیلنج ان دونوں نیشنل پارکس کے درمیان موجود قدرتی راستوں (Ecological Corridors) کا ٹوٹنا ہے۔ سائنسی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ مارگلہ ہلز اور ایوبیہ نیشنل پارک کے تیندوے الگ تھلگ نہیں رہتے، بلکہ یہ پورا خطہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے جہاں یہ جانور آمد و رفت کرتے ہیں。 لیکن مری، گلیات اور اسلام آباد کے اطراف میں سڑکوں کا جال بچھنے، ہوٹلوں کی تعمیر اور تیزی سے ہوتی جنگلات کی کٹائی نے ان کے راستوں کو منقطع کر دیا ہے۔ جب راستے سکڑ جاتے ہیں، تو تیندوے محدود جگہ پر محصور ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے آپسی تصادم کے واقعات غیر قدرتی طور پر بڑھ جاتے ہیں اور وہ سڑک پار کرتے ہوئے گاڑیوں کی زد میں بھی آ جاتے ہیں。
حاصل کلام یہ ہے کہ پاکستان کے ان خوبصورت نیشنل پارکس میں تیندووں کا آپس میں لڑنا قدرت کا اپنا بنایا ہوا دفاعی نظام ہے جس سے ان کی تعداد کم نہیں ہو رہی。 اگر ہمیں مارگلہ اور ایوبیہ کے ان شاہانہ شکاریوں کو بچانا ہے، تو توجہ ان کی آپسی لڑائیوں پر نہیں بلکہ انسانی رویوں پر دینی ہوگی。 حکومت کی جانب سے مارگلہ ہلز میں قائم کی گئی ‘لیپرڈ پریزرویشن زون’ جیسے اقدامات خوش آئند ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایوبیہ اور مارگلہ کے درمیان ہجرت کے راستوں کا تحفظ، مقامی آبادیوں کو مویشیوں کے نقصان کا معاوضہ دینا اور جنگلی شکار کی آبادی بڑھانا ناگزیر ہے。 قدرت کے اس حسن کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم ان کے گھر یعنی جنگل میں اپنی مداخلت کم کریں۔