اسلام آباد (صداۓ روس)
حکومتِ پاکستان نے سولر توانائی کے شعبے کو منظم کرنے کے لیے قوانین میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت اب تمام سولر سسٹم صارفین کے لیے National Electric Power Regulatory Authority سے باقاعدہ جنریشن لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق سولر سسٹم لگانے والے صارفین کو اب مفت لائسنس کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔ حکومت نے سسٹم کی پیداواری صلاحیت کے مطابق فیس مقرر کر دی ہے، جس کے تحت صارفین کو ایک ہزار روپے فی کلو واٹ کے حساب سے لائسنس فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی DISCOs کے اختیارات بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ ماضی میں 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے یہ کمپنیاں مفت لائسنس جاری کرتی تھیں، تاہم اب تمام صارفین کو براہِ راست نیپرا سے رجوع کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے لائسنس فیس کی ادائیگی صرف پے آرڈر کے ذریعے کی جائے گی، جو نیپرا کے نام جمع کرانا لازمی ہوگا، جبکہ نقد ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئی پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ کے بجائے نئے کنکشنز کے لیے نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، جس کا مقصد سولر توانائی کے استعمال کو مزید منظم بنانا اور قومی گرڈ پر بوجھ کو متوازن رکھنا ہے۔ تاہم حکومت نے موجودہ صارفین کے لیے رعایت برقرار رکھی ہے۔ وہ صارفین جو پہلے ہی نیٹ میٹرنگ کے معاہدے کر چکے ہیں، ان کے معاہدے اپنی مدت تک پرانی شرائط پر برقرار رہیں گے۔ البتہ اگر کوئی صارف اپنے سسٹم میں توسیع یا تبدیلی کرے گا تو اس پر فوری طور پر نئے قوانین اور فیسوں کا اطلاق ہوگا۔