یورپی یونین کا غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات پر اتفاق

Ukrainian Refugees Ukrainian Refugees

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

یورپی یونین کے قانون سازوں اور رکن ممالک کے نمائندوں نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور مسترد شدہ پناہ گزینوں کی جلد ملک بدری کے لیے نئے قوانین پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔ نئے مجوزہ قواعد کے تحت یورپی یونین کے رکن ممالک کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزاروں کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے کسی تیسرے ملک منتقل کر سکیں، اگر ان کی واپسی ممکن نہ ہو۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تارکین وطن، بالخصوص سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے افراد کے خلاف مزید سخت اقدامات بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ مجوزہ قوانین میں گھروں کی تلاشی، سماجی مراعات میں کمی، سفری اور شناختی دستاویزات کی ضبطی اور حراست کی مدت میں نمایاں اضافے جیسی شقیں شامل ہیں۔ نئی تجاویز کے مطابق حراست کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ڈھائی سال تک کی جا سکے گی۔

اسی طرح یورپی یونین میں داخلے پر عائد پابندیوں کی مدت بھی زیادہ تر معاملات میں پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کی جا سکے گی، جبکہ بعض سنگین کیسز میں تاحیات پابندی بھی عائد کی جا سکے گی۔ یورپی پارلیمنٹ میں یورپی پیپلز پارٹی کے نمائندے فرانسوا زاویے بیلامی نے کہا کہ کئی برسوں تک یورپ نے یہ تاثر دیا کہ اگر کسی شخص کو یورپ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہ بھی ہو تو اس کے خلاف شاید کوئی کارروائی نہ ہو۔ ان کے مطابق اب یہ دور ختم ہو رہا ہے اور جن افراد کو یورپ میں قیام کا حق حاصل نہیں، انہیں واپس جانا ہوگا۔

یہ معاہدہ ابھی یورپی یونین کی حکومتوں اور یورپی پارلیمنٹ کی باضابطہ منظوری کا منتظر ہے، جس کے بعد ہی یہ قواعد نافذ العمل ہو سکیں گے۔ یورپی کمیشن نے یہ تجاویز گزشتہ سال پیش کی تھیں۔ یہ اقدام غیر قانونی امیگریشن سے متعلق بڑھتے ہوئے عوامی اور سیاسی دباؤ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ 2015 میں تقریباً دس لاکھ افراد کی یورپ آمد کے بعد سے امیگریشن کا مسئلہ یورپی سیاست کے سب سے متنازع موضوعات میں شمار ہوتا رہا ہے۔ حالیہ مطالعات کے مطابق 2025 میں یورپی یونین میں تارکین وطن کی تعداد ریکارڈ 64.2 ملین تک پہنچ گئی، جن میں تقریباً 46.7 ملین افراد یورپی یونین سے باہر پیدا ہوئے تھے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور بائیں بازو کے سیاست دانوں نے ان مجوزہ قوانین پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے حراست، چھاپوں اور یورپی یونین سے باہر غیر محفوظ حالات میں افراد کی منتقلی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم یورپی یونین کے کمشنر برائے امیگریشن Magnus Brunner نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یورپی یونین کو اس بات پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا کہ کون یورپ آ سکتا ہے، کون یہاں رہ سکتا ہے اور کن افراد کو واپس جانا ہوگا۔