
دنیا میں جب بھی کسی اہم تیل تنصیب کو نقصان پہنچتا ہے، گیس پائپ لائن متاثر ہوتی ہے، آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے یا کسی بڑی ریفائنری پر حملہ ہوتا ہے تو یہ واقعہ بظاہر پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور پیش آتا ہے۔ لیکن آج کی باہم جڑی ہوئی عالمی معیشت میں توانائی کا بحران سرحدوں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات کبھی پیٹرول کی قیمت، کبھی بجلی کے نرخ، کبھی صنعت کی پیداواری لاگت اور کبھی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کی صورت میں پاکستان تک پہنچ جاتے ہیں۔
اسی لیے اکیسویں صدی میں توانائی کو صرف تیل، گیس اور بجلی کی پیداوار کا معاملہ سمجھنا کافی نہیں رہا۔ توانائی اب تجارت بھی ہے، خارجہ پالیسی بھی، قومی سلامتی بھی اور کسی حد تک ریاستی معاشی خودمختاری کا پیمانہ بھی۔ آج صرف یہ اہم نہیں کہ کسی ملک کے پاس کتنے قدرتی ذخائر ہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ ان وسائل کو کتنی محفوظ اور قابلِ اعتماد صورت میں صارف تک پہنچا سکتا ہے اور کسی بحران کی صورت میں اس کے پاس متبادل راستہ موجود ہے یا نہیں۔
پاکستان کے لیے یہ سوال خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف ملک اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر سال اربوں ڈالر کا تیل اور دیگر توانائی مصنوعات درآمد کرتا ہے، دوسری طرف اسی پاکستان کے پاس دریائی پانی، سورج، ہوا، تھر کا کوئلہ، جوہری توانائی اور مقامی تیل و گیس سمیت قابلِ ذکر وسائل موجود ہیں۔ اصل مسئلہ وسائل کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی اور مستقل منصوبہ بندی کا ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک پاکستان نے تقریباً 12.53 ملین میٹرک ٹن خام تیل اور مختلف پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 8.40 ارب امریکی ڈالر تھی۔ صرف خام تیل کی درآمد تقریباً 6.76 ملین میٹرک ٹن رہی۔
یہ اعداد محض سرکاری رپورٹ کی چند سطریں نہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی ملک میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کا اثر براہِ راست زرمبادلہ، روپے کی قدر، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار تک پہنچتا ہے۔ خام تیل چند ڈالر فی بیرل مہنگا ہو تو اس کا اثر صرف پیٹرول پمپ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل، صنعت اور بجلی کی لاگت تک پھیل جاتا ہے۔
قدرتی گیس کے شعبے میں بھی پاکستان کو اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران ملک میں اوسط گیس استعمال تقریباً 3,143 ملین مکعب فٹ یومیہ تھا، جس میں تقریباً 798 ملین مکعب فٹ یومیہ درآمدی RLNG شامل تھی۔ مقامی گیس کے ذخائر میں کمی کے باعث پاکستان کو خصوصاً بجلی اور صنعتی شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی LNG پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
یہی انحصار پاکستان کو عالمی سمندری راستوں اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال سے براہِ راست جوڑ دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز اس معاملے میں سب سے نمایاں مثال ہے۔ دنیا کے نقشے پر یہ ایک نسبتاً تنگ سمندری راستہ نظر آتا ہے، لیکن عالمی توانائی نظام کے لیے اس کی حیثیت ایک شہ رگ جیسی ہے۔
امریکی Energy Information Administration کے مارچ 2026 کے اعداد کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں روزانہ اوسطاً 20.9 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرا۔ یہ دنیا میں سمندر کے ذریعے تجارت ہونے والے تیل کا تقریباً ایک چوتھائی تھا۔ اسی راستے سے عالمی LNG تجارت کا بھی ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
2026 کے ابتدائی مہینوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہ راستہ عالمی توانائی منڈی کے لیے کس قدر حساس ہے۔ International Energy Agency نے مارچ 2026 میں خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں شدید رکاوٹ نے عالمی منڈی میں غیر معمولی supply disruption پیدا کیا۔
صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ IEA کے رکن ممالک نے مارچ 2026 میں تقریباً 400 ملین بیرل emergency oil reserves مارکیٹ میں لانے پر اتفاق کیا۔ یہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی تاریخ کے سب سے بڑے مربوط emergency stock releases میں شمار کیا گیا۔
قدرتی گیس کی منڈی بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہی۔ اپریل 2026 میں International Energy Agency نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے LNG کی آمدورفت میں خلل سے عالمی LNG supply کا ایک قابلِ ذکر حصہ متاثر ہوا اور قطر اور متحدہ عرب امارات سے برآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
13 مئی 2026 کو جاری ہونے والی IEA کی تازہ Oil Market Report میں بھی صورت حال کی سنگینی برقرار تھی۔ رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کی پیداوار اور tanker traffic معمول پر واپس نہیں آئے تھے اور عالمی منڈی پر دباؤ موجود تھا۔ مارچ اور اپریل کے دوران عالمی تیل کے معلوم ذخائر میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان کے لیے یہ محض مشرقِ وسطیٰ کی ایک خبر نہیں۔ پاکستان تیل اور LNG دونوں درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی supply chain میں رکاوٹ کے اثرات یہاں قیمت، freight، insurance، زرمبادلہ اور صنعتی لاگت کی شکل میں سامنے آ سکتے ہیں۔
یہیں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ایک supplier یا ایک سمندری راستہ متاثر ہو جائے تو پاکستان کے پاس متبادل کیا ہے؟
پاکستان اور روس کے توانائی تعلقات اسی تناظر میں اہم ہو جاتے ہیں۔ جون 2023 میں پہلی مرتبہ روسی خام تیل کا cargo پاکستان پہنچا۔ 11 جون 2023 کو تقریباً 45 ہزار میٹرک ٹن روسی خام تیل لے کر پہلا جہاز کراچی پہنچا تھا۔ اس کے بعد مزید روسی تیل کی آمد سے پاکستان نے عملی طور پر اپنی روایتی oil supply chain سے باہر ایک اضافی ذریعہ آزمایا۔
اس پیش رفت کی اہمیت محض سستے خام تیل تک محدود نہیں تھی۔ ایک درآمدی ملک کے لیے مختلف suppliers کا ہونا خود ایک strategic advantage ہے۔ لیکن پاکستان–روس توانائی تعاون کو صرف crude oil کی خریداری تک محدود رکھنا دونوں ممالک کی صلاحیت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔
روس کے پاس صرف تیل اور گیس کے بڑے ذخائر نہیں بلکہ exploration، drilling، refining، pipelines، gas processing اور energy engineering میں کئی دہائیوں کا تجربہ بھی موجود ہے۔ پاکستان کے لیے اس technical experience سے فائدہ اٹھانا محض چند cargoes خریدنے سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔
20 جون 2025 کو سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی قیادت میں پاکستانی وفد نے Gazprom International کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ OGDCL بھی اس بات چیت میں شریک تھی۔ پاکستانی سرکاری معلومات کے مطابق مذاکرات میں oil and gas exploration، production، joint ventures اور energy infrastructure میں ممکنہ تعاون پر گفتگو ہوئی۔
میرے نزدیک پاکستان–روس توانائی تعاون کا اصل مستقبل اسی مقام پر موجود ہے۔ خام تیل کا ایک جہاز آتا ہے اور چند ہفتوں یا مہینوں میں اس کا تیل استعمال ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر مشترکہ منصوبے کے ذریعے پاکستان میں نیا gas field دریافت ہوتا ہے، موجود oil field سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، کوئی refinery جدید بنتی ہے یا پاکستانی انجینئر نئی تکنیکی مہارت حاصل کرتے ہیں تو اس کا فائدہ کئی دہائیوں تک باقی رہ سکتا ہے۔
پاکستان کے اپنے وسائل بھی معمولی نہیں۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق مارچ 2025 تک ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 46,605 میگاواٹ تھی۔ پن بجلی، جوہری توانائی اور قابلِ تجدید ذرائع مجموعی installed capacity کا 44 فیصد سے زیادہ حصہ بن چکے تھے۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل صرف imported oil اور LNG پر منحصر نہیں۔ ملک پہلے ہی بتدریج ایک ایسے energy mix کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں پانی، جوہری توانائی، سورج اور ہوا کا کردار بڑھ رہا ہے۔
سولر توانائی پاکستان کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ سورج ایک ایسا resource ہے جس کے لیے ملک کو ہر ماہ کسی بیرونی supplier کو ڈالر ادا نہیں کرنا پڑتے۔ تاہم صرف solar panels نصب کر دینا مکمل energy transition نہیں۔ اس کے ساتھ storage، smart metering، transmission اور ایسا grid بھی درکار ہے جو دن اور رات کے دوران پیداوار میں آنے والی تیز تبدیلی کو سنبھال سکے۔
تھر کا کوئلہ بھی پاکستان کے لیے ایک اہم مقامی وسیلہ ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق تھر میں تقریباً 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ مقامی coal سے بجلی پیدا کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ imported fuel پر زرمبادلہ کا دباؤ کم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ماحولیات اور climate change کے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس لیے تھر کو پاکستان کے مستقل توانائی مستقبل کا واحد ستون بنانے کے بجائے اسے ایک عبوری وسیلے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا، جبکہ solar، wind، hydro، nuclear اور جدید grid infrastructure میں سرمایہ کاری جاری رکھی جائے۔
جوہری توانائی بھی پاکستان کے energy mix میں خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ملک کے nuclear power plants مستحکم baseload بجلی فراہم کرتے ہیں، جو solar اور wind کی طرح موسم اور دن کے اوقات کی تبدیلی سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتی۔ پاکستان کے مستقبل کے energy system میں nuclear، hydro، solar اور wind کو ایک دوسرے کے متبادل کے بجائے ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ذرائع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
لیکن آج توانائی پیدا کرنا ہی کافی نہیں، اسے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ ستمبر 2022 میں بحیرۂ بالٹک میں Nord Stream 1 اور Nord Stream 2 گیس پائپ لائنوں کو پہنچنے والے نقصان نے دنیا کو دکھایا کہ اربوں ڈالر کا energy infrastructure بھی geopolitical confrontation میں vulnerability رکھتا ہے۔
روس–یوکرین تنازع کے دوران بھی refineries اور دیگر energy infrastructure پر حملوں نے یہ واضح کیا کہ کسی ملک کے پاس بڑے قدرتی ذخائر ہونے کے باوجود اگر اس کی processing یا transportation facilities متاثر ہوں تو energy supply chain کا توازن بدل سکتا ہے۔
یہ اصول پاکستان سمیت ہر ملک پر لاگو ہوتا ہے۔ تیل زمین کے نیچے موجود ہونا کافی نہیں؛ اسے نکالنے کے لیے technology، process کرنے کے لیے refinery، منتقل کرنے کے لیے pipeline یا بندرگاہ اور صارف تک پہنچانے کے لیے قابلِ اعتماد infrastructure ضروری ہے۔ اسی طرح بجلی پیدا کرنا کافی نہیں اگر transmission system اسے صارف تک نہ پہنچا سکے۔
توانائی کی خودمختاری کے مفہوم کو بھی اسی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اپنی ضرورت کا ہر قطرہ تیل، ہر مکعب فٹ گیس اور ہر یونٹ بجلی اپنی سرحدوں کے اندر پیدا کرے۔ موجودہ عالمی معیشت میں ایسا تصور نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ضروری۔
حقیقی خودمختاری یہ ہے کہ کوئی ایک supplier، ایک fuel، ایک pipeline، ایک shipping route یا ایک geopolitical crisis پوری معیشت کو یرغمال نہ بنا سکے۔
اگر خلیج سے supply متاثر ہو تو دوسرے suppliers موجود ہوں۔ اگر oil price بڑھے تو مقامی اور renewable resources معیشت کو کچھ تحفظ فراہم کریں۔ اگر مقامی gas production کم ہو تو alternatives تیار ہوں۔ اگر solar capacity بڑھے تو grid اور storage بھی اسی رفتار سے بہتر ہوں۔
پاکستان اور روس بظاہر توانائی کی دنیا کے مختلف کناروں پر کھڑے ہیں۔ روس ایک بڑا producer اور exporter ہے، جبکہ پاکستان ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی consumer market اور importer ہے۔ اس کے باوجود دونوں کے سامنے ایک بنیادی سوال مشترک ہے: اگر معمول کا راستہ متاثر ہو جائے تو متبادل کیا ہے؟
روس کے لیے یہ refinery، pipeline یا export route کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے crude imports، LNG supply، shipping lanes اور foreign exchange کا۔ اسی لیے diversification دونوں ممالک کے لیے اہم ہے، اگرچہ اس کی ضرورت کی نوعیت مختلف ہے۔
پاکستان کو آنے والے برسوں میں صرف یہ سوچنے سے آگے بڑھنا ہوگا کہ اگلا سستا تیل کہاں سے خریدا جائے۔ مقامی oil and gas exploration، موجود fields سے بہتر recovery، refinery modernization، gas infrastructure، hydropower، nuclear، solar، wind، storage اور transmission کو ایک ہی قومی حکمتِ عملی کے حصے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
روس کے ساتھ تعاون بھی اسی بڑی تصویر کا حصہ ہونا چاہیے۔ اگر تعلق صرف barrels کی خرید و فروخت تک محدود رہتا ہے تو پاکستان کو ایک اضافی supplier ضرور مل جائے گا۔ لیکن اگر یہی تعلق exploration، engineering، training، technology transfer اور joint ventures تک پہنچتا ہے تو پاکستان کو ایک اضافی صلاحیت حاصل ہوگی۔
گزشتہ صدی میں عالمی توانائی سیاست کا بڑا سوال یہ تھا کہ تیل کس کے پاس ہے۔ اکیسویں صدی میں اس کے ساتھ ایک اور سوال جڑ چکا ہے: اگر معمول کا راستہ بند ہو جائے تو متبادل کس کے پاس ہے؟
پاکستان کے لیے توانائی کی خودمختاری کا راستہ دنیا سے الگ ہو جانے میں نہیں بلکہ اپنے وسائل کو بہتر استعمال کرنے، اپنے infrastructure کو مضبوط بنانے، جدید technology حاصل کرنے اور اپنے بیرونی suppliers اور routes کو متنوع بنانے میں ہے۔
تیل کا ذخیرہ دولت ہے، گیس کا میدان دولت ہے، سورج، پانی اور ہوا بھی دولت ہیں۔ لیکن حقیقی توانائی طاقت اس ریاست کے پاس ہے جو بحران کے دوران بھی اپنے گھروں کو روشن، اپنے کارخانوں کو فعال اور اپنی معیشت کو چلتا رکھ سکے۔
یہی اکیسویں صدی میں توانائی کی حقیقی خودمختاری ہے۔