ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
روس کے ’اوریسھنک‘ انٹرمیڈیٹ رینج میزائل کے استعمال نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کو کہا کہ روس نے کیئف ریجن میں ایک بار پھر اپنا انٹرمیڈیٹ رینج بیلسٹک میزائل ’اوریسھنک‘ استعمال کیا ہے۔
روسی دفاعی وزارت نے بعد میں اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ یوکرین کی جانب سے ’شہری اہداف‘ پر حملوں کے جواب میں کیا گیا۔
روس کے اس اقدام پر یورپ میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے X پر لکھا کہ یہ “بے جا اضافہ” ہے اور یوکرین کی حمایت کا اعادہ کیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی شہری اہداف پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جوہری صلاحیت والے اوریسھنک میزائل کا استعمال روس کی جنگ میں تعطل اور خطرناک اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائین نے کہا کہ روسی حملہ کریملن کی “ظالمانہ” روش اور امن کی کوششوں سے بے توجہی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے شہریوں پر دہشت گردی کو “طاقت” نہیں بلکہ “مایوسی” قرار دیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے حملوں کو “شہری آبادی کے خلاف دہشت گردی کے قابلِ مذمت اعمال” قرار دیا اور کہا کہ روس فوجی طور پر ڈیڈ اینڈ پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے اوریسھنک کے استعمال کو “بے پرواہ نیوکلیئر برنک مین شپ” قرار دیا۔
واضح رہے کہ اوریسھنک میزائل کا پہلا استعمال 2024 میں ڈنیپرو شہر پر کیا گیا تھا۔ روس کا دعویٰ ہے کہ یہ 3,000 سے 5,500 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے یورپ کے بڑے حصے اس کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔
حملے کے دوران روس نے 90 میزائل اور تقریباً 600 ڈرون بھی داغے۔ ان حملوں میں جرمنی کے سرکاری براڈکاسٹر ARD کا سٹوڈیو بھی شدید متاثر ہوا۔