روس کو مغربی مذاکرات پر اعتماد نہیں، روسی وزیر خارجہ

Sergey Lavrov Sergey Lavrov

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ روس کو اب یوکرین کے معاملے پر مغربی ممالک کی مذاکرات کی آمادگی پر کوئی اعتماد باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہونے والے تمام معاہدے مغرب کی طرف سے توڑے گئے، جس کے بعد روس کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ لاوروف نے موزمبیق کے دورے کے دوران اپنے ہم منصب ماریا مانوئلا ڈوس سانتوس لوکاس کے ساتھ مذاکرات کے بعد میپوٹو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ مغرب مسلسل منافقت آمیز انداز میں مذاکرات کی اپیل کرتا رہتا ہے، حالانکہ 2014، 2015 اور 2019 میں طے پانے والے تمام معاہدے مغرب کی ضمانتوں کے باوجود اسی مغرب نے توڑ دیے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ “ان تمام معاملات میں مغرب کی ضمانتیں خود مغرب ہی نے ختم کر دیں۔ یہ سب مکمل جھوٹ ثابت ہوئے۔” انہوں نے مزید کہا کہ 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان بھی ایک مذاکراتی حل طے پایا تھا، لیکن مغرب نے اسے کھلے عام نقصان پہنچایا اور اسے ناکام بنایا۔

لاوروف کا کہنا تھا کہ “ہم مغرب کی مذاکراتی حل تلاش کرنے کی اعلان کردہ آمادگی پر مزید اعتماد نہیں کرتے۔ نیک نیتی اور امید کا یہ ذخیرہ مکمل طور پر خشک ہو چکا ہے۔”

انہوں نے موزمبیق کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے یوکرین تنازعہ کی بنیادی وجوہات کو سمجھا اور اقوام متحدہ میں متوازن، منصفانہ اور ذمہ دارانہ موقف اپنایا، اور مغرب کے ایجنڈے کو یوکرین کے گرد گھمانے کی کوششوں کی حمایت کرنے سے انکار کیا۔