الیکٹرک گاڑیوں کا بڑھتا رجحان: کیا پیٹرول کاریں ختم ہو جائیں گی؟

Chinese car Chinese car

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتیں اور ماحولیاتی خدشات ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں 23 ملین الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہونے کا امکان ہے، جو کل نئی کاروں کی فروخت کا 28 فیصد بنتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار پانچ سال قبل صرف 5 فیصد تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کاریں مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گی، مگر ان کا دورانیہ محدود ہو جائے گا۔ وولکس ویگن کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے پیش گوئی کی ہے کہ پیٹرول کاریں گھوڑوں کی طرح ایک چھوٹے اور خاص طبقے کے لیے مخصوص ہو جائیں گی، جبکہ عام صارفین الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔

چین اس شعبے میں سب سے آگے ہے، جہاں 2025 میں فروخت ہونے والی نصف سے زیادہ نئی کاریں الیکٹرک تھیں۔ چین کے بعد یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں فروخت دگنی ہو گئی۔ تاہم امریکا میں وفاقی مراعات میں کمی اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث فروخت میں 19 فیصد کمی کا امکان ہے۔ بلومبرگ این ایف کی رپورٹ کے مطابق 2030 تک عالمی الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 35.4 ملین تک پہنچ جائے گی، اور 2035 تک یہ تعداد 510 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرک ٹرکوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جہاں 2025 میں ہر دس میں سے ایک نیا ٹرک الیکٹرک تھا۔