ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
سعودی عرب میں لیبر قوانین کی ایک نئی لہر نے خاموشی سے غیر ملکی کارکنوں کی زندگیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے ملازمت کے معاہدوں کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، جن میں اب زیادہ سخت شرائط شامل کی گئی ہیں، جہاں چھٹی سے واپسی میں تاخیر یا بار بار غیر حاضری سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ ان نئے قواعد کے نفاذ کے بعد کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے معاملات پر خصوصی توجہ دیں، کیونکہ اس نظام میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی ملازمت برقرار رکھنے یا کھونے کے درمیان فرق ثابت ہو سکتی ہے۔ سعودی حکام نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے سخت قوانین متعارف کروائے ہیں تاکہ افرادی قوت میں نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان کے بیورو برائے امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بھی نئے ضابطوں سے متعلق آگاہ کیا ہے، جن کے تحت ملازمت، چھٹی اور غیر حاضری کے واضح اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق صرف 21 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ تمام ملازمین کو اپنے ملازمت کے معاہدوں کی مکمل پابندی کرنا ہوگی، جبکہ کسی قسم کی خلاف ورزی یا غیر رسمی طریقہ کار کی گنجائش کم کر دی گئی ہے۔
اہم تبدیلیوں میں چھٹی کے نظام کو بھی سخت کیا گیا ہے۔ جو کارکن سالانہ چھٹی کے بعد بروقت واپس نہیں آئیں گے، انہیں غیر حاضر تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، بغیر اجازت مسلسل 30 دن غیر حاضر رہنے یا وقفے وقفے سے 60 دن کی غیر حاضری پر ملازمت ختم کی جا سکتی ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کام کے ماحول میں نظم و ضبط کو مضبوط بنانا اور غیر ملکی کارکنوں کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستانی حکام نے بھی کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک روانگی سے قبل تمام قانونی دستاویزات مکمل کریں اور نئے قواعد کو اچھی طرح سمجھ لیں تاکہ کسی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔