ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا میں ایک ریپبلکن رکن کانگریس Andy Ogles نے ریپ کے مجرموں کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کو پھانسی دی جانی چاہیے، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ کانگریس کے ان ارکان کی طرف نہیں تھا جن پر حالیہ الزامات سامنے آئے ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ڈیموکریٹ رہنما Eric Swalwell اور ریپبلکن رکن Tony Gonzalez نے جنسی بدسلوکی کے الزامات کے بعد کانگریس چھوڑنے کا اعلان کیا۔ اینڈی اوگلز نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ “ریپ کرنے والوں کو پھانسی دی جانی چاہیے، اس میں کوئی سوال نہیں”، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایرک سوالویل کے حوالے سے بات نہیں کر رہے اور نہ ہی کسی کانگریس رکن کو دھمکی دے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرک سوالویل پر ایک سابق معاون کی جانب سے جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ مزید خواتین نے بھی ان پر مختلف نوعیت کی بدسلوکی کے الزامات لگائے ہیں۔ تاہم سوالویل نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن ٹونی گونزالیز نے بھی اپنے خلاف سامنے آنے والے اسکینڈل کے بعد دوبارہ انتخابی مہم معطل کر دی تھی۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے ایک خاتون اسٹاف رکن کے ساتھ تعلقات کا اعتراف کیا، جو بعد ازاں 2025 میں خودکشی کر گئی تھی۔ ادھر سابق رکن کانگریس Marjorie Taylor Greene نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس میں اس نوعیت کے واقعات عوامی سطح پر سامنے آنے سے کہیں زیادہ عام ہیں۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ حالیہ استعفے ممکنہ طور پر سیاسی قیادت کے درمیان کسی مفاہمت کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔