ماسکو (صداۓ روس)
روسی اکیڈمی آف سائنسز کے رکن اور روسی وزارتِ صحت کے چیف قلبی سرجن لیو بوکیریا نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں موٹاپے کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف روس بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم عمری میں وزن میں غیر معمولی اضافہ مستقبل میں دل، شوگر اور دیگر دائمی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں لیو بوکیریا نے کہا کہ بچوں میں موٹاپے کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات فاسٹ فوڈ کا بڑھتا استعمال اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ نسل اپنا زیادہ وقت موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹرانک آلات پر صرف کر رہی ہے، جبکہ ماضی میں بچے کھیل کے میدانوں اور گلیوں میں مختلف جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ طرزِ زندگی میں آنے والی یہ تبدیلیاں بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں موٹاپے سے جڑی بیماریوں کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب روسی ادارہ برائے صارفین کے حقوق اور انسانی فلاح (روس پوٹریبنادزور) کی سربراہ آنا پوپووا نے حال ہی میں بتایا کہ روس میں ابتدائی جماعتوں کے طلبہ میں موٹاپے کی شرح میں اضافے کا رجحان روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اسکول کے بچوں کی غذائی عادات میں بہتری آئی ہے اور وہ پہلے کے مقابلے میں نمک اور چینی کا کم استعمال کر رہے ہیں، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں صحت مند غذا، کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے موٹاپے کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے، جبکہ والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔