امریکا کے اہم ہتھیاروں کے ذخائر میں خطرناک کمی، رپورٹ میں انکشاف

US weapon US weapon

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکا کے اہم فوجی ہتھیاروں کے ذخائر میں نمایاں کمی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث مستقبل میں کسی بڑے تنازع میں اس کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ انکشاف Center for Strategic and International Studies کی جانب سے جاری ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ سات ہفتوں تک جاری جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کے جدید ترین ہتھیاروں میں شامل پریسیژن اسٹرائیک میزائلز (PrSM) کے کم از کم 45 فیصد ذخائر ختم ہو چکے ہیں، جبکہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے تقریباً 50 فیصد انٹرسیپٹرز اور Terminal High Altitude Area Defense کے نصف سے زائد میزائل بھی استعمال ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار پینٹاگون کی خفیہ جائزہ رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کمی صرف فضائی دفاعی نظام تک محدود نہیں بلکہ دیگر ہتھیاروں پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔ اندازے کے مطابق امریکی ٹوماہاک کروز میزائلوں کے تقریباً 30 فیصد ذخائر، لانگ رینج جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائلز (JASSM) کے 20 فیصد سے زائد اور ایس ایم-3 اور ایس ایم-6 انٹرسیپٹرز کے قریب 20 فیصد ذخائر بھی استعمال ہو چکے ہیں۔

اگرچہ Pentagon کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری آپریشنز کے لیے اس کے پاس اب بھی کافی فوجی صلاحیت موجود ہے، تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس کمی نے امریکا کی کسی اور بڑے محاذ پر جنگ لڑنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، خصوصاً China جیسے طاقتور حریف کے خلاف۔ رپورٹ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنا ایک طویل اور مہنگا عمل ہوگا۔ ایک ماہر نے CNN کو بتایا کہ ان ذخائر کو مکمل کرنے میں ایک سے چار سال لگ سکتے ہیں، جبکہ اس کے بعد مطلوبہ سطح تک بڑھانے میں مزید کئی سال درکار ہوں گے۔ دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس ہر وقت اور ہر مقام پر کارروائی کرنے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔ اسی طرح امریکی صدر Donald Trump نے بھی اس مسئلے کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس میزائلوں کی “تقریباً لامحدود” فراہمی موجود ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے 2027 کے مالی سال کے لیے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی درخواست دی ہے، جس کا بڑا حصہ ہتھیاروں کے ذخائر کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔ اس سے قبل The Wall Street Journal نے رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون نے بڑی امریکی آٹو کمپنیوں General Motors اور Ford سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ شہری فیکٹریوں کو اسلحہ سازی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔