ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عہدے سے مستعفی ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ملک میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔ برطانوی ٹی وی میزبان پیئرس مورگن کو دیے گئے انٹرویو کے اقتباسات، جو انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کیے، کے مطابق جب زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ استعفیٰ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، بالکل نہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ٹرمپ کے اصرار کے مطابق یوکرین میں صدارتی انتخابات کو ممکن سمجھتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ نہیں، بالکل نہیں۔ زیلنسکی کے صدارتی اختیارات کی مدت سرکاری طور پر 20 مئی 2024 کو ختم ہو چکی ہے، تاہم کیف نے باقاعدہ انتخابات نہیں کرائے۔ یوکرینی حکام کا مؤقف ہے کہ مارشل لا کے خاتمے تک انتخابات ممکن نہیں۔ یوکرین کا آئین مارشل لا کے دوران اور اس کے خاتمے کے بعد چھ ماہ تک انتخابات کو معطل رکھتا ہے، جبکہ پارلیمان مارشل لا میں بار بار توسیع کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب 10 اکتوبر کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ زیلنسکی کو انتخابات کرانے چاہییں، اور یہ بھی کہ وہ کئی بار تنازع ختم کر کے امن معاہدہ کر سکتے تھے۔ اس سے قبل فروری 2025 میں ٹرمپ نے زیلنسکی کو انتخابات کے بغیر آمر قرار دیا تھا۔ زیلنسکی ماضی میں بھی انتخابات کے مطالبے پر اپنا مؤقف واضح کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ 60 روزہ مکمل جنگ بندی کرا دیں تو وہ نئے انتخابات کے لیے تیار ہیں، تاہم انتخابات کے انعقاد کے لیے وقت درکار ہوگا اور شہریوں کی سلامتی کی ضمانت ضروری ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا رہا ہے کہ روس کے زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے یوکرینی شہریوں کو بھی انتخابات میں آزادانہ حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیے۔ مورگن کے ساتھ ایک سابقہ انٹرویو میں زیلنسکی نے یہ بھی کہا تھا کہ پارلیمان اور عوام فی الحال انتخابات کے خیال کی حمایت نہیں کرتے۔ فروری 2025 میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امن کے لیے ضروری ہوا تو وہ عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں، اور اس کے بدلے یوکرین کی نیٹو رکنیت بھی مانگ سکتے ہیں۔