ہومتازہ ترینیوکرین ملکی آئین میں تبدیلی سمیت روسی مطالبات تسلیم کرنے کو تیار

یوکرین ملکی آئین میں تبدیلی سمیت روسی مطالبات تسلیم کرنے کو تیار

یوکرین ملکی آئین میں تبدیلی سمیت روسی مطالبات تسلیم کرنے کو تیار

ماسکو(صداۓ روس)
یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات میں روس کے سرکردہ مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے کہا ہے کہ کیف نے اصولی اور باضابطہ طور پر غیر جانبدار رہنے پر اتفاق کیا ہے۔ نیٹو میں شامل ہونے کی ملک کی بولی ان وجوہات میں سے ایک تھی جس کی وجہ ماسکو نے کہا کہ اس نے گزشتہ ماہ فوجی کارروائی شروع کی۔ میڈنسکی نے اپنا یہ بیان ترکی کے شہر استنبول میں فریقین کے امن سربراہی اجلاس کے انعقاد کے ایک دن بعد دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی ٹیم نے مستقبل کے امن معاہدے کی روڈ میپنگ کا ایک مسودہ پیش کیا۔

دوسری جانب اسلوانیہ کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اپنا آئین تبدیل کرنے اور نیٹو میں شامل ہونے کی درخواست واپس لینے کے لئے تیار ہے ۔ یوکرین کی جنگ کو چھتیس روز ہوگئے ہیں۔ روس کے صدرولادیمیرپوتن نے چوبیس فروری کو یوکرین یے خلاف فوجی آپریشن کا فرمان جاری کیا تھا اور یوکرینی فوجیوں کو ہتھیارڈالنے اوراپنے گھروں میں واپس آنے کی دعوی دی تھی۔ یوکرین اپنی سیکورٹی کی ضمانت کے لئے نیٹو کی رکنیت پراصرارکررہا ہے لیکن نیٹو نے روس اوریوکرین کے درمیان جنگ میں یوکرین کی صرف مالی اور اسلحہ جاتی مدد پراکتفا کیا ہے۔

آئی آر آئی بی نے رپورٹ دی ہے کہ اسلوونیا کے وزیراعظم یانز یانشا نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ، وزیراعظم ڈینیس شمیھال اوران کے دیگر ساتھیوں سے بات چیت کے بعد کہا کہ اس بات چیت میں یوکرینی رہنماؤں نے کہا ہے کہ جوواقعات و حالات پیش آئے ہیں اس کے بعد یوکرین آئین کو تبدیل کرنے کے لئے تیار ہے ۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل