ہومتازہ ترینبات چیت یا تصادم، فیصلہ مغرب کو کرنا ہے، صدر پوتن کا...

بات چیت یا تصادم، فیصلہ مغرب کو کرنا ہے، صدر پوتن کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا پیغام

بات چیت یا تصادم، فیصلہ مغرب کو کرنا ہے، صدر پوتن کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا پیغام

ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو اپنی افتتاحی تقریر کے دوران کہا کہ یہ مغرب پر منحصر ہے کہ آیا وہ روس کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے یا ملک کی ترقی کو روکنے کی کوشش میں لامتناہی جارحیت کا سہارا لینا چاہتا ہے۔ واضح رہے صدر پوتن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وہ باضابطہ طور پر روسی رہنما کے طور پر پانچویں مدت کے لیے حلف اٹھا رہے تھے۔ یہ تقریب کریملن گرینڈ پیلس میں ہوئی اور اس میں پارلیمنٹ اور آئینی عدالت کے اعلیٰ حکام سمیت درجنوں معززین نے شرکت کی۔

روس کے مستقبل اور دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے، صدر پوتن نے زور دیا کہ ہم مغربی ممالک کے ساتھ بات چیت سے انکار نہیں کرتے۔ اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخاب ان کا ہے: کیا وہ روس کی ترقی کو روکنے کی کوشش جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہوئے جارحیت اور مسلسل دباؤ کی پالیسی کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس راستے پر وہ برسوں سے چل رہے ہیں، یا تعاون اور امن کی راہ تلاش کرتے ہیں۔

Facebook Comments Box
انٹرنیشنل