
ماسکو (اشتیاق ہمدانی)
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو تقریباً دو ہفتے ہو چکے ہیں، جس میں واشنگٹن کھل کر تل ابیب کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیل کے حامیوں کی توقعات کے برعکس ایران ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے باعث امریکہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج کو ایرانی ڈرونز، خصوصاً ’’شاہد‘‘ ڈرونز کے حملوں کا مؤثر مقابلہ کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اس مسئلے کا اعتراف کیا ہے، اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فضائی دفاعی نظام زیادہ تر حملوں کو روکنے میں کامیاب رہتا ہے۔ تاہم میڈیا میں امریکی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی تصاویر اس دعوے کے برعکس صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔ چیک صحافی رومان بلاشکو کے مطابق امریکہ ہمیشہ اسرائیل کو فوجی تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس اس کی صلاحیت موجود ہے، جبکہ تل ابیب خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے خطے میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنا ایک طریقہ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکہ کے پاس تقریباً 414 ایس ایم-3 میزائل اور 500 سے زائد تھاڈ انٹرسیپٹر موجود تھے، جو مؤثر دفاعی ہتھیار سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کی تیاری اور استعمال پر بھاری مالی اور زمانی لاگت آتی ہے۔ ایران کے ساتھ جاری لڑائی میں اس ذخیرے کا ایک حصہ استعمال ہو چکا ہے، اور اگر امریکہ اسرائیل کی مسلسل مدد کرتا رہا تو یہ وسائل بھی محدود ہو سکتے ہیں۔ ایرانی میڈیا میں امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد کو ’’ایپسٹین اتحاد‘‘ کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔ ایرانی پروفیسر فواد ایزدی کے مطابق تل ابیب کے حامیوں پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ یا تو کمسن بچیوں پر ظلم کرتے ہیں یا ان پر بمباری کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکہ نے ایران کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملہ کیا جس میں 170 سے زائد شہری ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر طالبات شامل تھیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق حملے میں بڑی تعداد میں عام شہری جان سے گئے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک اکثر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی اہداف کے بجائے سماجی اداروں جیسے اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں اس واقعے کی ذمہ داری ایران پر ڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ اسکول کو ایرانی فوج کی غلط فائرنگ سے نقصان پہنچا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق اسکول کو ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا، جو ایران کے پاس موجود نہیں ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں ہزاروں رہائشی مکانات، درجنوں اسکول اور اسپتال تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کی حتمی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال موسمِ گرما میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کو ختم قرار دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی بات کی تھی، تاہم موجودہ حالات میں امریکہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ چیک صحافی رومان بلاشکو کے مطابق عالمی نظام اب یک قطبی سے کثیر قطبی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے اور ’’پیکس امیریکانا‘‘ کا دور اختتام کے قریب ہے، جس میں امریکہ خود کو عالمی پولیس کے طور پر پیش کرتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ تہران اور تل ابیب کے درمیان کسی بھی عارضی جنگ بندی کا مقصد بڑے فوجی تصادم کی تیاری ہو۔ جولائی 2025 میں ہونے والے مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے اسرائیل کو ایران پر حملوں کی اجازت دی تھی تاکہ تہران کو جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بھی اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی پالیسیوں کا مقصد اہم وسائل اور اسٹریٹجک خطوں پر اثر و رسوخ قائم رکھنا ہے۔