پاکستان میں 3,000 کنٹینرز پھنس گئے، ایران کا زمینی راستوں پر غور

Karachi seaport Karachi seaport

اسلام آباد (صداۓ روس)

کراچی بندرگاہ پر تقریباً 3,000 کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں جن میں موجود سامان ایران کے لیے بھیجا جانا تھا، تاہم بحری جہازوں کی عدم آمد کے باعث یہ کارگو غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کنٹینرز میں کیا سامان موجود ہے اس کی تفصیلات واضح نہیں، جبکہ وہ بحری جہاز جو انہیں لے جانے والے تھے ابھی تک کراچی نہیں پہنچ سکے۔ صورتحال میں مزید پیچیدگی آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس نے سمندری تجارت کو بھی متاثر کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں شروع ہونے والی پالیسیوں کے تحت ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد تجارت کو مکمل طور پر روکنا نہیں بلکہ اس پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ امریکی موقف کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کی ضرورت ہے اور اس کی معیشت مالی دباؤ کا شکار ہے۔

کشیدگی کے دوران ایران نے سمندری راستوں پر کنٹرول کے لیے اقدامات کیے اور مختلف مراحل پر شپنگ نظام کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم حالیہ صورتحال میں اس پر شدید معاشی دباؤ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر برآمدات اور درآمدات کے تسلسل میں رکاوٹ کے باعث۔ ماہرین کے مطابق ایران نے برسوں کی پابندیوں کے دوران متبادل نظام بھی تیار کیا ہے، جن میں وسطی ایشیا اور خطے کے زمینی راستے شامل ہیں۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بڑی مقدار میں تیل موجود ہے جو سمندری راستوں سے باہر محفوظ کیا گیا ہے، جس سے اسے کچھ مدت تک مالی استحکام مل سکتا ہے، لیکن طویل مدتی اثرات شدید ہو سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے پاکستان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ متبادل تجارتی راستوں کی تیاری میں معاونت کرے، جس سے مستقبل میں زمینی راہداریوں کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔