ماسکو (صداۓ روس)
روس نے یورپی یونین کی جانب سے ماسکو کے خلاف بیسویں پابندیوں کے پیکج کے اعلان کے بعد یورپی حکام پر اپنی جوابی پابندیاں مزید وسیع کر دی ہیں۔ روسی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ برسلز کی جانب سے حالیہ پابندیاں بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزارت کے مطابق یورپی یونین کے غیر قانونی فیصلوں کے جواب میں روس نے یورپی اداروں، یورپی یونین کے رکن ممالک اور برسلز کی روس مخالف پالیسی سے ہم آہنگ دیگر یورپی ممالک کے نمائندوں کی فہرست میں نمایاں توسیع کی ہے۔
روسی حکام نے اگرچہ نام ظاہر نہیں کیے، تاہم بتایا کہ بلیک لسٹ میں ایسے عہدیدار شامل ہیں جو یوکرین کو فوجی امداد دینے، روس پر پابندیاں عائد کرنے، روسی شہریوں کے خلاف مبینہ بے بنیاد مقدمات بنانے اور روس کے تیسرے ممالک سے تعلقات کو نقصان پہنچانے میں کردار ادا کر رہے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض ایسے کارکنان اور ماہرین تعلیم کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں روس مخالف سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا گیا۔
روسی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ برسلز کی تباہ کن پالیسی روس کی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے میں ناکام رہے گی، اور روس اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ یاد رہے کہ یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے روس کے مالیاتی شعبے اور توانائی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں مبینہ شیڈو فلیٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور یورپی و امریکی اقدامات کو بحری قزاقی قرار دیتا ہے۔