ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے انٹیلی جنس اداروں سے یہ جائزہ طلب کیا ہے کہ اگر امریکہ یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا اعلان کرے تو تہران کا ممکنہ ردعمل کیا ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی اس بات کا تجزیہ کر رہی ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو فاتح قرار دیتے ہوئے جنگ ختم کرنے کا اعلان کریں تو اس کے سیاسی، عسکری اور سفارتی نتائج کیا ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو بھاری سیاسی نقصان پہنچا سکتی ہے، کیونکہ اس جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور ٹرمپ انتظامیہ فوجی کارروائیاں تیز کرنے کا بھی انتخاب رکھتی ہے، تاہم فوری کشیدگی میں کمی سیاسی دباؤ کم کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران جنگ بندی کے دوران تباہ شدہ تنصیبات کے ملبے سے ڈرونز، میزائل لانچرز اور دیگر عسکری سامان نکالنے میں کامیاب رہا، جس کے باعث دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کی قیمت پہلے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ امریکی حکومت کے پاس اب بھی مختلف عسکری آپشنز موجود ہیں، جن میں محدود حملے یا ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں، تاہم زمینی حملے کا امکان اب پہلے کے مقابلے میں کم سمجھا جا رہا ہے۔ سی آئی اے نے اس حوالے سے مخصوص سوالات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ امریکی نیشنل انٹیلی جنس دفتر نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔