بنگلہ دیش نے روس کے تعاون سے اپنا پہلا جوہری پاور پلانٹ مکمل کرلیا

nuclear power plants nuclear power plants

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

روسی جوہری توانائی کارپوریشن روزاٹم نے بنگلہ دیش کے پہلے جوہری بجلی گھر روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ کے پہلے ری ایکٹر میں جوہری ایندھن کی لوڈنگ شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام منصوبے کے آغاز کے مرحلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ روسی کمپنی کے مطابق اس مرحلے کے بعد ری ایکٹر کو کم ترین کنٹرولڈ پاور لیول تک پہنچایا جائے گا، جس کے بعد مرحلہ وار بجلی پیداوار بڑھائی جائے گی تاکہ قومی گرڈ کو سپلائی دی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی سطح پر بجلی پیداوار شروع ہوگی، تاہم مکمل پیداواری صلاحیت سن 2027 تک حاصل ہونے کی توقع ہے۔ بنگلہ دیش کو اس سال بھی توانائی بحران کا سامنا رہنے کا امکان ہے کیونکہ ملک بڑی حد تک درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے، جن میں سے بڑی مقدار مشرق وسطیٰ سے آتی ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ روپ پور جوہری بجلی گھر کی مجموعی پیداواری صلاحیت دو ری ایکٹرز کے ذریعے 2400 میگاواٹ ہوگی، جس کے بعد بنگلہ دیش ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں فعال جوہری ری ایکٹر موجود ہیں۔

اس منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 13 ارب ڈالر ہے، جس میں روس نے 90 فیصد رقم ریاستی قرض کی صورت میں فراہم کی ہے۔ روزاٹم کے سربراہ الیگزی لیخاچیف نے کہا کہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان نے پہلے یونٹ کے آغاز اور منصوبے کے باقی حصوں کی تکمیل کی حکومتی منظوری کی تصدیق کی ہے۔ روزاٹم کے مطابق پہلا یونٹ جولائی 2026 تک جبکہ دوسرا یونٹ 2027 میں فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ بنگلہ دیش کے سائنس و ٹیکنالوجی وزیر فقیر محبوب انام نے کہا کہ پہلے ری ایکٹر سے تجارتی بنیادوں پر بجلی پیداوار اگست میں شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں تقریباً 300 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونٹ ون سے تقریباً 1100 میگاواٹ بجلی اگلے سال جنوری کے پہلے ہفتے تک قومی گرڈ میں شامل کیے جانے کی امید ہے، جبکہ مکمل استعداد اسی ماہ کے آخر تک حاصل ہو سکتی ہے۔