سوڈان کا ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملے کا الزام

drone drone

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

سوڈان نے دارالحکومت خرطوم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حالیہ ڈرون حملے کے پیچھے ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ سوڈانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل عاصم عوض عبدالوہاب کے مطابق پیر کے روز ہونے والے متعدد فضائی حملوں میں خرطوم کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق حملوں میں خرطوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ، قریبی رہائشی علاقے اور اہم فوجی تنصیبات شامل تھیں، جن میں ام درمان میں الواقع المرخیات تربیتی مرکز اور خرطوم نارتھ میں سگنل کور بیس شامل ہیں۔ سوڈانی فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

یاد رہے کہ سوڈان اپریل 2023 سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جو سوڈانی مسلح افواج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے باعث شروع ہوئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

سوڈانی حکام نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ خرطوم ایئرپورٹ پر بمباری میں ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات ملوث ہیں، اور کہا کہ سوڈان مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران سوڈانی وزیر خارجہ محی الدین سالم اور فوجی ترجمان عبدالوہاب نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس “ناقابل تردید شواہد” موجود ہیں، جن کے مطابق ڈرونز ایتھوپیا کے شہر بہر دار کے ہوائی اڈے سے اڑے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “ایس 88” نامی ایک یو اے وی، جسے متحدہ عرب امارات سے منسلک قرار دیا گیا، ایتھوپیا کی حدود سے سوڈانی فضائی حدود میں داخل ہوتا ہوا ٹریک کیا گیا۔

حکام نے مزید الزام لگایا کہ اسی نوعیت کے ڈرونز ماضی میں بھی ریاست نیلِ ازرق کے علاقوں، بشمول الکرمک، اور شمالی و جنوبی کردفان میں سوڈانی افواج پر حملوں میں استعمال ہوئے۔ ان کے مطابق ایک ایسا ہی ڈرون 17 مارچ کو الابیض کے شمال میں مار گرایا گیا تھا، تاہم اس وقت ایتھوپیا نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

ان پیش رفتوں کے بعد سوڈانی وزیر خارجہ نے ایتھوپیا میں تعینات اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔ دوسری جانب ایتھوپیا کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ادیس ابابا سوڈان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے اور مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات، انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور وسیع تر سیاسی عمل کی حمایت کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔