صدر پوتن نے زیلنسکی سے ملاقات کی شرط واضح کردی

Putin Zelensky Putin Zelensky

ماسکو (صداۓ روس)

روسی صدر Vladimir Putin نے کہا ہے کہ یوکرینی صدر Volodymyr Zelenskyy سے ملاقات کسی بھی مقام، حتیٰ کہ کسی تیسرے ملک میں بھی ہو سکتی ہے، تاہم یہ صرف اُس وقت ممکن ہوگی جب ایک حتمی اور طویل المدتی امن معاہدہ مکمل طور پر تیار ہو جائے اور دستخط کے لیے تیار ہو۔ یومِ فتح کی تقریبات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس نے کبھی بھی ذاتی ملاقات سے انکار نہیں کیا۔ ان کے مطابق یوکرینی فریق اور زیلنسکی ملاقات کے لیے تیار ہیں، لیکن ایسی ملاقات صرف رسمی دستخطی تقریب ہونی چاہیے، نہ کہ خود مذاکرات کا حصہ۔

انہوں نے کہا کہ “ہم گھنٹوں، دن رات بات چیت کر سکتے ہیں مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماہرین پہلے تمام نکات طے کریں، پھر رہنما ملاقات کریں اور معاہدے پر دستخط ہوں۔”

صدر پوتن نے ماضی کے منسک معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس اب ایسے کسی عمل کو دہرانا نہیں چاہتا جس میں طویل مذاکرات کے باوجود کوئی عملی پیش رفت نہ ہو۔

اسی پریس بریفنگ میں روسی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ یوکرین تنازع اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے امید ظاہر کی تھی کہ روس کی جانب سے 8 مئی کو اعلان کردہ جنگ بندی مستقبل میں جنگ کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں بھی صدر پوتن نے کہا تھا کہ روس یوکرین تنازع کا پُرامن حل چاہتا ہے، بشرطیکہ اس تنازع کی “بنیادی وجوہات” کو ختم کیا جائے۔