مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے عالمی تیل ذخائر تیزی سے کم، نئے توانائی بحران کا خدشہ

Russian Oil Russian Oil

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

عالمی خبر رساں ادارے Bloomberg کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں شدید بحران اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی مالیاتی ادارے Morgan Stanley نے اندازہ لگایا ہے کہ یکم مارچ سے 25 اپریل کے درمیان عالمی تیل ذخائر میں روزانہ تقریباً 48 لاکھ بیرل کی کمی ہوئی، جو بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ریکارڈ کے مطابق کسی بھی سہ ماہی میں ہونے والی سابقہ سب سے بڑی کمی سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح Goldman Sachs نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر نظر آنے والے تیل ذخائر 2018 کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیزی سے ختم ہوتے ذخائر عالمی منڈی میں قیمتوں کے مزید دھماکہ خیز اضافے اور ایندھن کی قلت کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ دنیا کی حکومتیں اس بحران کے اثرات پر مؤثر انداز میں قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ختم بھی ہو جائے تب بھی عالمی تیل منڈی طویل عرصے تک غیر مستحکم رہ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکا، اسرائیل اور ان کے حامی ممالک سے وابستہ جہازوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں 7 اپریل کو واشنگٹن نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے کئی مذاکراتی ادوار کے باوجود فریقین کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔