کم جونگ اُن کے قتل کی صورت میں فوری ایٹمی حملے کا آئینی حکم

North Korea’s Kim Jong Un North Korea’s Kim Jong Un

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

شمالی کوریا نے ملکی آئین میں ایک نہایت حساس اور اہم ترمیم منظور کر لی ہے، جس کے تحت اگر کسی غیر ملکی حملے میں سپریم لیڈر Kim Jong-un ہلاک ہو جاتے ہیں تو شمالی کوریا کی فوج فوری طور پر جوابی ایٹمی حملہ کرنے کی پابند ہوگی۔

برطانوی اخبار The Telegraph کی رپورٹ کے مطابق یہ معلومات National Intelligence Service کی جانب سے جنوبی کوریائی حکام کو دی گئی بریفنگ میں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ آئینی ترمیم 22 مارچ کو پیانگ یانگ میں منعقد ہونے والے 15ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوران منظور کی گئی۔ نئی آئینی شق کے تحت شمالی کوریا کا ایٹمی نظام ایک طرح کے “خودکار ردعمل” کے اصول پر منتقل ہو گیا ہے، یعنی اگر ملکی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تو جوابی ایٹمی کارروائی کے لیے مزید سیاسی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے خطے میں کشیدگی اور عالمی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ Kim Jong-un اپنی ذاتی سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی محتاط سمجھے جاتے ہیں۔ وہ عموماً سخت حفاظتی حصار میں رہتے ہیں، فضائی سفر سے گریز کرتے ہیں اور زیادہ تر بکتر بند خصوصی ٹرین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس آئینی ترمیم کا مقصد شمالی کوریا کی قیادت کو کسی بھی ممکنہ “ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیک” یعنی سربراہِ مملکت کو نشانہ بنانے والی کارروائی سے محفوظ بنانا اور دشمن کو سخت پیغام دینا ہے۔