ماسکو (صدائے روس) رکن قومی اسمبلی محترمہ سحر کامران نے کہا ہے کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے کر نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جو امن کو ترجیح دیتی ہے، تاہم دفاعِ وطن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے بروقت اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
1965ء کی جنگ سے لے کر موجودہ صورتحال تک تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کم وسائل کے باوجود جذبۂ ایمانی، قومی اتحاد اور عسکری مہارت کے ذریعے دشمن کے عزائم ناکام بناتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “بنیان المرصوص” نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ پاکستانی قوم دفاعِ وطن کے لیے متحد ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کا بھی ذکر کیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے صدائے روس کی جانب سے “معرکۂ حق” کے عنوان سے منعقدہ ایک اہم ویبینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ویبینار میں “بنیان المرصوص” کی تاریخی کامیابی، پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی، کشمیر کاز اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ویبینار کے میزبان اور صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے مختلف ممالک سے شریک پاکستانی کمیونٹی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ “بنیان المرصوص” پاکستان کی عسکری، سفارتی اور قومی یکجہتی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی نے پاکستانی قوم کے اعتماد میں اضافہ کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان پر لگائے گئے الزامات اور جارحیت کا پاکستان نے انتہائی دانشمندانہ انداز میں جواب دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی طیارے مار گرائے جبکہ بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو گرفتار کرنے کے بعد جذبۂ خیر سگالی کے تحت واپس بھیج دیا گیا، جسے دنیا بھر میں پاکستان کے امن پسند مؤقف کے طور پر سراہا گیا۔
ویبینار سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ کشمیری ایکٹوسٹ اور خدیجہ زرین ویلفیئر سوسائٹی کی چیئرپرسن محترمہ خدیجہ زرین خان نے کہا کہ اس آپریشن کے بعد عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر دوبارہ نمایاں ہوا اور دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی حقیقت کا احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
جموں و کشمیر انٹرنیشنل کمیونٹی کے چیئرمین غلام نبی بٹ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور دفاع ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور کشمیر کے عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد، مضبوط دفاع اور مؤثر بیانیہ ہی پاکستان کی مستقبل کی کامیابی اور سلامتی کی ضمانت ہیں۔
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری شیخ عبدالمتین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کی حمایت اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستانی قوم آج بھی اس مؤقف پر متحد ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جائے۔

کشمیر لبریشن سیل کے میڈیا ترجمان سردار نجیب غفور نے میڈیا وارفیئر اور نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ایک اہم محاذ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں نے بھارتی پروپیگنڈے اور فیک نیوز کا مؤثر جواب دیا اور دنیا کے سامنے سچ پیش کیا۔
کشمیر میڈیا سینٹر کے مشتاق برزادہ نے قومی اتحاد اور حب الوطنی کے جذبات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیاسی، لسانی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہو کر پوری قوم نے جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد مستقبل میں بھی برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چیئرمین کشمیر یوتھ ڈائیلاگ اینڈ لیڈرشپ فورم انجینئر حمزہ محبوب نے خطے کی بدلتی صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی توسیع پسندانہ پالیسی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی کوششیں مستقبل میں ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے پاکستان کو سفارتی اور دفاعی سطح پر مسلسل متحرک رہنا ہوگا۔

ویبینار میں پاک فوج، شہداء اور ان کے اہل خانہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کو بھی سراہا جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ویبینار میں کشمیری ایکٹوسٹ افشاں کیانی اور فرانس سے کشمیری ایکٹوسٹ مونا راجہ نے بھی شرکت کی۔