ایران کا بوشہر جوہری پلانٹ مکمل طور پر فعال، روسی جوہری ادارے کی تصدیق

Zaporozhye nuclear power plant Zaporozhye nuclear power plant

ماسکو (صداۓ روس)

روسی سرکاری جوہری کمپنی Rosatom کے سربراہ Aleksey Likhachev نے کہا ہے کہ ایران کا بوشہر جوہری بجلی گھر حالیہ امریکی۔ایرانی کشیدگی کے باوجود معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور وہاں کی صورتحال عمومی طور پر پُرسکون ہے۔ روسی ادارے کے مطابق بوشہر پلانٹ کے قریب حالیہ دنوں میں کسی حملے یا عسکری کارروائی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا، جبکہ پلانٹ کا پہلا اور واحد فعال ری ایکٹر مکمل صلاحیت کے ساتھ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ روسی میڈیا کو انٹرویو میں الیکسی لیخاچیوف نے خبردار کیا کہ بوشہر پلانٹ پر کسی بھی قسم کا حملہ کم از کم علاقائی سطح کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ وہاں جوہری ایندھن کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر حملے کیے تھے، جس کے بعد تہران نے واشنگٹن پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی جنگی جہازوں کے خلاف جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔ بوشہر پلانٹ آبنائے ہرمز سے تقریباً 250 کلومیٹر دور واقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد روسی کمپنی نے بوشہر میں اپنے ماہرین کی تعداد تقریباً 700 سے کم کرکے صرف 20 کر دی تھی۔ مارچ اور اپریل میں پلانٹ کے قریب دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جبکہ ایک واقعے میں پلانٹ کے قریب گولہ گرنے سے ایک سیکیورٹی گارڈ ہلاک ہوگیا تھا۔ الیکسی لیخاچیوف کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی صورتحال بہتر رہی تو روس دوبارہ اپنے تمام ماہرین کو بوشہر بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ بوشہر کا پہلا جوہری یونٹ 2013 میں مکمل طور پر فعال ہوا تھا، جبکہ روسی ڈیزائن کے مزید دو ری ایکٹرز، یونٹ 2 اور 3، 2016 سے زیر تعمیر ہیں۔ روسی حکام کے مطابق اس وقت تقریباً 2200 ایرانی کنٹریکٹرز تعمیراتی سرگرمیوں میں دوبارہ مصروف ہو چکے ہیں۔ بوشہر جوہری بجلی گھر ایران کے قومی بجلی نظام کا اہم حصہ ہے۔ اس منصوبے کا آغاز 1970 کی دہائی میں ایک مغربی جرمن کمپنی نے کیا تھا، تاہم 1980 کے اسلامی انقلاب کے بعد کام روک دیا گیا تھا، جسے بعد ازاں روسی ادارے روساٹوم نے 1990 کی دہائی میں دوبارہ بحال کیا۔