ماسکو- معرکۂ حق – پاکستان آج عالمی سفارتی سطح پر ایک اہم اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے. فیصل نیاز ترمذی کا خطاب –

ماسکو میں “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ کی پروقار تقریب
پاکستانی سفارتخانے میں قومی یکجہتی، افواجِ پاکستان اور سفارتی کامیابیوں کو خراجِ تحسین
“پاکستان نے جارحیت، فاشزم اور انتہا پسندانہ سوچ کو مؤثر جواب دیا”، مقررین
“پاکستان آج عالمی سفارتی سطح پر ایک اہم اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے” فیصل نیاز ترمذی کا خطاب –

ماسکو (خصوصی رپورٹ: اشتیاق ہمدانی)

روس کے دارالحکومت ماسکو میں قائم پاکستانی سفارتخانہ ماسکو میں “معرکۂ حق” اور “آپریشن بنیان المرصوص” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک پروقار اور پُرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں روس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی، سفارتی شخصیات، طلبہ، کاروباری افراد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں قومی یکجہتی، افواجِ پاکستان کی قربانیوں، پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں جس ذمہ داری، حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ انداز میں ردعمل دیا، اس نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں انہیں روس کے تاریخی شہر اسٹالن گراڈ جانے کا موقع ملا، جہاں دوسری جنگِ عظیم کے دوران فاشزم اور نازیزم کے خلاف عظیم معرکہ لڑا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دنیا نے نازیزم کو شکست دی، اسی طرح “معرکۂ حق” میں پاکستان نے جارحیت اور انتہا پسندانہ سوچ کو مؤثر جواب دیا۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ اگر آر ایس ایس کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے نظریات میں فاشزم اور انتہا پسندی کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آبادی، معیشت اور جغرافیے کے اعتبار سے بڑا ملک ضرور ہے، لیکن ایک بڑی طاقت ہونے کے لیے بڑے دل اور وسیع النظر پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے جرمنی، انڈونیشیا اور برازیل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑی طاقتیں اپنے ہمسایوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں، جبکہ ہندوستان اپنے بیشتر پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔

فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ 2019 میں بھی پاکستان نے دشمن کو مؤثر جواب دیا تھا اور امید تھی کہ ہندوستان اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے گا، مگر دوبارہ اشتعال انگیزی کی گئی جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی قیادت نے مثالی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا اور یہی اتحاد پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان عالمی سفارتی سطح پر ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری پاکستان کے مؤقف اور سفارتی حکمتِ عملی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

روس میں پاکستان کے دفاعی اتاشی بریگیڈیئر آصف خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “معرکۂ حق” کی کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ میدان میں عملی طور پر یہ محسوس کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہر لمحے پاکستان کے شاملِ حال رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1965ء کی جنگ میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے جو واقعات سننے کو ملتے تھے، ویسی ہی مدد “آپریشن بنیان المرصوص” میں بھی دیکھی گئی۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی دانشمندانہ فیصلہ سازی، عزم اور کمٹمنٹ کو بھی دیا۔


ملک شہباز نے اپنے خطاب میں کہا کہ افواجِ پاکستان اور پاک فضائیہ نے جس جرات، محنت اور باہمی اتحاد کے ساتھ کامیابی حاصل کی، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے حاصل ہوئی اور دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم ہر مشکل وقت میں اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔

روس میں پاکستان کمیونٹی کے سابق صدر ڈاکٹر زاہد علی خان نے کہا کہ “معرکۂ حق” پاکستان کی تاریخ کا ایک تابندہ باب ہے، جس نے یہ ثابت کیا کہ سچائی، اصولوں اور قومی وقار پر قائم رہنے والی قومیں ہی کامیاب ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے پاکستان کے اقدام کو سراہا اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روس میں زیرِ تعلیم پاکستانی طالبعلم حامد احمد خان نے کہا کہ پاکستان آج عالمی سطح پر قومی تعاون، سفارتکاری اور علاقائی امن کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت، متوازن خارجہ پالیسی اور سفارتی حکمتِ عملی نے اسے عالمی سیاست میں ایک اہم مقام عطا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “معرکۂ حق” صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک قومی جذبہ اور عہد ہے کہ پاکستانی قوم ہمیشہ حق، سچائی اور اپنے وطن کے دفاع کے لیے متحد رہے گی۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء کو “آپریشن بنیان المرصوص” پر مبنی خصوصی دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں آپریشن کے مختلف مراحل، قومی عزم، عسکری حکمتِ عملی اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔ دستاویزی فلم کو شرکاء نے بے حد سراہا اور افواجِ پاکستان کے حق میں “پاکستان زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے گئے۔