اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان ایئر فورس نے چینی ساختہ جدید اسٹیلتھ جنگی طیارے J-35 کے حصول کے لیے ابتدائی اشتراکی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے خطے میں فضائی طاقت کے توازن میں ممکنہ بڑی تبدیلی اور بھارت کے لیے نئی عسکری تشویش قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاک فضائیہ کے نائب سربراہ ایئر وائس مارشل طارق غازی نے بتایا کہ پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ہتھیاروں، مزید Chengdu J-10C طیاروں اور JF-17 تھنڈر کے مزید جدید ورژنز کے حصول میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔
چین کے سرکاری ادارے شینیانگ ایئرکرافٹ کارپوریشن کی جانب سے تیار کردہ J-35 دو انجنوں پر مشتمل اسٹیلتھ جنگی طیارہ ہے، جسے جدید ریڈار نظام سے بچنے کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ طیارے میں اندرونی ویپن بے، جدید ریڈار جذب کرنے والا مواد اور جدید فضائی دفاعی نظام سے بچاؤ کی خصوصیات شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کو ابتدائی مرحلے میں 40 J-35 اسٹیلتھ طیارے، KJ-500 ائیر بورن وارننگ ایئرکرافٹ اور HQ-19 فضائی دفاعی نظام کی پیشکش کی گئی تھی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق KJ-500 دشمن کے اسٹیلتھ طیاروں کی بروقت نشاندہی کی صلاحیت بڑھائے گا جبکہ HQ-19 نظام پاکستان کے موجودہ فضائی دفاع کو مزید مضبوط کرے گا۔ بھارتی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ J-35 کی شمولیت مستقبل میں بھارتی فضائیہ کے لیے آپریشنل چیلنجز پیدا کر سکتی ہے کیونکہ اسٹیلتھ طیاروں کا روایتی ریڈار سے سراغ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ریٹائرڈ بھارتی فائٹر پائلٹ ویجائندر کے ٹھاکر کے مطابق بھارتی فضائیہ کو اپنے Sukhoi Su-30MKI طیاروں کا بڑا حصہ J-35 کی نگرانی اور سراغ رسانی کے لیے مختص کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے اس کی آپریشنل لچک متاثر ہو سکتی ہے۔