ماسکو (صداۓ روس)
چینی صدر شی جن پنگ نے 14 مئی کو بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں سرکاری دورے پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ صدر شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران کہا کہ موجودہ صدی میں بڑی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں، بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی ہے اور دنیا ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ انہوں نے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا: کیا چین اور امریکہ “تھیوسڈیڈیز کے جال” سے بچ سکتے ہیں اور بڑی طاقتوں کے تعلقات کا نیا ماڈل قائم کر سکتے ہیں؟ کیا دونوں ممالک عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں؟ اور کیا دونوں ممالک اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور انسانیت کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلقات کا روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں؟
صدر شی نے زور دیا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔ دونوں ممالک کی کامیابی ایک دوسرے کے لیے مواقع ہیں اور چین-امریکہ تعلقات کا استحکام پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کو حریف کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے اور ایک دوسرے کی کامیابی میں شریک ہو کر مشترکہ خوشحالی کی طرف بڑھنا چاہیے۔
صدر شی جن پنگ نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ دونوں ممالک اور عالمی سطح کے اہم مسائل پر تفصیلی بات چیت ہو گی اور دونوں رہنما چین-امریکہ تعلقات کی اس “جائنٹ شپ” کو درست سمت میں لے کر جائیں گے تاکہ 2026 دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک تاریخی اور علامتی سال ثابت ہو۔
ملاقات سے قبل بیجنگ کے عظیم عوامی ہال کے مشرقی دروازے پر امریکی صدر کے لیے باقاعدہ استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔