قازان فورم: او آئی سی وزرائے ثقافت کا اہم اجلاس، اسلامی دنیا اور روس کے درمیان ثقافتی تعاون پر زور

قازان / اشتیاق ہمدانی
روس کے شہر قازان میں جاری بین الاقوامی اقتصادی فورم روس – اسلامی دنیا: قازان فورم 2026 کے دوران اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کے وزرائے ثقافت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلامی دنیا اور روس کے درمیان ثقافتی، سفارتی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں مختلف اسلامی ممالک کے وزراء، سفارتکاروں اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔
قازان میں موجود صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی کے مطابق اجلاس کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی روابط مختلف اقوام کے درمیان اعتماد، امن، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مقررین نے نوجوان نسل کے تبادلوں، مشترکہ منصوبوں، تعلیمی روابط اور ثقافتی سفارتکاری کو عالمی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر رانا مبشر اقبال اور وزیرِ مملکت طلحہ برکی نے کی۔

وزیرِ مملکت طلحہ برکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ثقافتی تنوع، بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمگیریت نے دنیا کو قریب کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ثقافتی شناخت، روایات اور سماجی اقدار کو بھی چیلنجز درپیش ہیں، اس لیے مشترکہ تہذیبی اور مذہبی ورثے کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم، نوجوانوں کے تبادلے، ثقافتی روابط اور ذمہ دار میڈیا انتہاپسندی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا ایک عظیم تہذیبی ورثے کی امین ہے اور او آئی سی ممالک کو تاریخی مقامات کی بحالی، ثقافتی تعاون، علمی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

Rustam Minnikhanov نے اپنے خطاب میں قازان فورم کو روس اور اسلامی دنیا کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا اور کہا کہ مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
روسی وزیرِ ثقافت Olga Lyubimova نے ثقافتی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف اقوام اور مذاہب کے درمیان روابط کو فروغ دے کر عالمی سطح پر اعتماد اور ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں آذربائیجان، مصر، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت مختلف اسلامی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے وفود نے شرکت کی، جبکہ قازان فورم 2026 کے تحت مختلف سیشنز اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔