پاکستان میں معاشی بحران: نوجوانوں کی روشن مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک اڑان

Lahore airport Lahore airport

اسلام آباد (صداۓ روس)

سال 2025 میں 763 ہزار سے زائد پاکستانی باقاعدہ چینلز کے ذریعے ملازمت کے لیے بیرون ملک ہجرت کر چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کو دنیا کے بڑے لیبر ایکسپورٹنگ ممالک میں سے ایک کی حیثیت میں مزید مستحکم کر رہے ہیں۔ وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ (MOPHRD) اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مشترکہ دو روزہ تربیتی سیشن میں یہ معلومات شیئر کی گئیں۔ یہ سیشن “ایڈوانسنگ سیف اینڈ فیئر لیبر مائیگریشن” پراجیکٹ کے تحت منعقد کیا گیا، جس کی مالی معاونت جرمن فیڈرل وزارت برائے اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (BMZ) اور یورپی یونین نے کی ہے۔
تربیتی سیشن کا مقصد منصفانہ بھرتی کے نظام کو مضبوط بنانا، لیبر مائیگریشن گورننس کو بہتر بنانا اور پاکستانی مزدوروں کو استحصال اور غیر منصفانہ بھرتی کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق بیرون ملک جانے والے پاکستانی نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد معاشی بحران، روزگار کے محدود مواقع اور شہری آزادیوں کی کمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔