ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بارانی جنگلات دنیا کے ان گھنے اور سدا بہار جنگلوں کو کہا جاتا ہے جہاں سالانہ بارش 2000 ملی میٹر سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ جنگلات زمین پر سب سے زیادہ حیاتیاتی تنوع رکھنے والے علاقے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بارانی جنگلات خط استوا کے قریب واقع ہوتے ہیں جہاں گرم اور مرطوب موسم سال بھر رہتا ہے۔ ان جنگلوں میں درخت اتنا گھنے اور بلند ہوتے ہیں کہ سورج کی روشنی زمین تک مشکل سے پہنچ پاتی ہے۔ یہ جنگلات کئی تہوں میں تقسیم ہوتے ہیں جن میں مختلف قسم کے پودے اور جانور پائے جاتے ہیں۔
بارانی جنگلات میں حیات کی تنوع اتنی زیادہ ہے کہ زمین پر موجود آدھی سے زیادہ جانوروں اور پودوں کی اقسام انہی جنگلوں میں موجود ہیں۔ لاکھوں اقسام کے کیڑے مکوڑے، پرندے، مینڈک، بڑے جانور جیسے گوریلا، اورنگ اوٹان اور جگوار یہاں پائے جاتے ہیں۔ ان جنگلوں کی گھناؤنی اور خطرناک فطرت کی وجہ سے انسان اب تک ان کے بڑے حصوں پر مکمل تسخیر حاصل نہیں کر سکا۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بارانی جنگلات زمین کا ’’لنگ‘‘ کہلاتے ہیں کیونکہ یہ بڑی مقدار میں آکسیجن پیدا کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔ ان جنگلوں کی حفاظت عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔