قازان فورم روس اور اسلامی دنیا کے تعلقات کو نئی جہت دے رہا ہے: روسی وزارتِ خارجہ

ماسکو (صدائے روس)
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ ذاخارووا نے کہا ہے کہ “روس۔اسلامی دنیا: قازان فورم” آج روس اور اسلامی دنیا کے درمیان تعاون کا ایک مؤثر، بااعتماد اور بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے، جو ایک منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قازان میں 12 سے 18 مئی تک منعقد ہونے والے 18ویں بین الاقوامی اقتصادی فورم “روس۔اسلامی دنیا: قازان فورم” نے ایک مرتبہ پھر روس اور اسلامی ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر جاری سیاسی کشیدگی، اقتصادی دباؤ اور جغرافیائی تبدیلیوں کے باوجود روس اور اسلامی دنیا کے تعلقات مسلسل مستحکم ہو رہے ہیں، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک روس کی مجموعی بیرونی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ بن چکے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس سال فورم میں تقریباً 100 ممالک کے سرکاری وفود، سفارت کاروں، کاروباری شخصیات، ماہرین اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ مختلف سرگرمیوں میں تقریباً 10 ہزار افراد شریک ہوئے۔ فورم کے دوران “روس۔اسلامی دنیا” اسٹریٹجک وژن گروپ کا اجلاس، اسلامی ممالک کے وزرائے ثقافت کی ملاقاتیں، سرمایہ کاری اور تجارت سے متعلق نمائشیں اور متعدد بین الاقوامی کانفرنسیں بھی منعقد ہوئیں۔

وزارتِ خارجہ نے مزید بتایا کہ قازان فورم 2026 کے دوران تقریباً 160 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ثقافتی تعاون سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے ماریا زاخارووا سے قازان فورم کی عالمی اہمیت، اسلامی دنیا کے ساتھ روس کے تعلقات اور کثیر قطبی عالمی نظام کے تناظر میں سوال کیا۔

اشتیاق ہمدانی نے دریافت کیا کہ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق قازان فورم کے ذریعے ماسکو نے اسلامی دنیا کے اپنے شراکت داروں تک کون سے اہم سیاسی، اقتصادی اور انسانی پیغامات پہنچائے، اور آیا آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فورم روس اور اسلامی دنیا کے درمیان تعاون کے سب سے مؤثر پلیٹ فارمز میں شامل ہو چکا ہے۔

اس سوال کے جواب میں ماریا زاخارووا کا کہنا تھا کہ قازان فورم نے واضح طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ روس اور اسلامی دنیا کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور دونوں فریق ایک زیادہ متوازن، منصفانہ اور کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کے لیے مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اسلامی دنیا کے ممالک کو اپنے قابلِ اعتماد اور اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر استحکام، سلامتی اور اقتصادی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماریا زاخارووا نے مزید کہا کہ قازان فورم اب صرف ایک اقتصادی تقریب نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی، سفارتی، ثقافتی اور انسانی روابط کے فروغ کا ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں توانائی، ٹیکنالوجی، اسلامی مالیاتی نظام، حلال انڈسٹری، تعلیم، سیاحت اور انسانی تعاون جیسے اہم موضوعات پر عملی سطح پر کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ فورم میں شریک ممالک، بین الاقوامی اداروں اور وفود کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قازان فورم عالمی سطح پر اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں قازان فورم جیسی سرگرمیاں روس اور اسلامی دنیا کے درمیان اعتماد سازی، اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ یہ پلیٹ فارم عالمی سطح پر نئے اور متوازن بین الاقوامی نظام کی تشکیل کی کوششوں کو بھی تقویت فراہم کر رہا ہے۔