ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
چیک جمہوریہ کے صدر پیٹر پاول نے بالٹک ریاستوں میں ڈرون واقعات کی وجہ سے نیٹو سے روس کے خلاف “فیصلہ کن” کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “روس طاقت کی زبان سمجھتا ہے، خاص طور پر جب اس کے پیچھے عمل ہو۔” پیٹر پاول نے یورپ کی روس کے حوالے سے پالیسی کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ابھی تک ماسکو کے بارے میں واضح پالیسی نہیں بنا سکا۔ انہوں نے جنگ کے بعد ایک نئے سلامتی نظام کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی اظہار مایوسی کیا کہ امریکہ نے روس پر دباؤ ڈالنا بند کر دیا ہے۔ دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف نے 22 مئی کو کہا تھا کہ مغربی ممالک روس کے وجود کو ہی قبول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ روس کی “تہذیبی متبادل” نے مغربی تہذیب سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسے مزید مالا مال بھی کیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے 20 مئی کو کہا تھا کہ روس پر حملہ کرنے والے کچھ یوکرینی ڈرون بالٹک ریاستوں سے داغے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ روسی فوج اور انٹیلی جنس ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ماسکو مناسب جواب کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مقصد روسی شہریوں اور صنعتی انفراسٹرکچر کی حفاظت ہے۔