ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ بات چیت سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو امریکہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
انڈیا ٹوڈے ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ “صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ وہ اس مسئلے کو سفارتی اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنا پسند کریں گے اور ہم ہر ممکن موقع استعمال کریں گے۔”
ایران کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ “اگر بات چیت ناکام ہو گئی تو صدر کے پاس یہ آپشن موجود ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ “یہ ہماری ترجیح نہیں ہے۔ ہمارا پہلا انتخاب بات چیت کے ذریعے معاہدہ کرنا ہے اور ہم اسی طرف کام کر رہے ہیں۔”
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ 7 اپریل کو صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتے کا سیز فائر کا اعلان کیا۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوئی تھی، تاہم دونوں فریق طویل مدتی حل پر اتفاق نہیں کر سکے۔
21 اپریل کو ٹرمپ نے سیز فائر میں توسیع کا اعلان کیا۔ 19 مئی کو انہوں نے کہا کہ واشنگٹن سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے تیار ہے اور فوجی کارروائی اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔ 23 مئی کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا مسودہ اصولاً طے پا چکا ہے۔