ماسکو (صداۓ روس)
روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوگو نے خبردار کیا ہے کہ آسٹریلیا AUKUS فوجی معاہدے کی وجہ سے امریکی جوہری ہتھیاروں کی میزبانی کر سکتا ہے۔
بدھ کے روز روس اور ASEAN کے درمیان سلامتی کے مسائل پر ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شوگو نے کہا کہ واشنگٹن جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی امریکی جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے لیے ممکنہ مقامات کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں Typhon میزائل سسٹم تعینات کرنے جا رہا ہے، جو نیوکلیئر صلاحیت والے ٹوماہاک میزائلوں کو فائر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
شوگو نے کہا کہ “جاپان اور جنوبی کوریا اپنی سرزمین پر امریکی جوہری ہتھیار رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ AUKUS معاہدے کی وجہ سے ایسے ہتھیار آسٹریلیا کی سرزمین پر بھی آ سکتے ہیں۔”
واضح رہے کہ آسٹریلیا نے 2021 میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ AUKUS سیکیورٹی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت امریکہ آسٹریلیا کو نیوکلیئر پاورڈ آبدوزوں کی ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔
شوگو نے مزید کہا کہ امریکہ ایشیا بحرالکاہل میں فوجی طاقت بڑھا رہا ہے اور اپنے اتحادیوں سے فوجی مہم جوئی کے لیے پیسے نکلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور جاپان انڈو پیسفک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO طرز) بنانے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
ماسکو اور بیجنگ دونوں نیٹو کی ایشیا میں توسیع کے امکان پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔