ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کی لہر نے شہری جنگلی حیات اور چڑیا گھر کے جانوروں کے لیے سنگین چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ گرمی کی شدت نہ صرف جانوروں کی جسمانی صحت بلکہ ان کے رویے، رہائش اور مجموعی تحفظ پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے جانوروں میں ہیٹ اسٹریس، پانی کی کمی اور تھکن کا شدید خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر شیر، شیرنی، ہاتھی اور ریچھ جیسے جانور جو قدرتی طور پر شدید گرمی کے موسم کے لیے موزوں نہیں، اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی وجہ سے ان کے معمول کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے اور وہ زیادہ تر وقت سایہ اور پانی کی تلاش میں گزار رہے ہیں۔ طویل عرصے تک شدید گرمی کا سامنا کرنے سے ان کے مدافعاتی نظام کمزور ہو رہے ہیں جس سے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
چڑیا گھر میں رہائش گاہوں (انکلوژرز) کی حالت بھی گرمی سے متاثر ہو رہی ہے۔ جہاں مناسب کولنگ سسٹم، سایہ دار جگہیں اور پانی کے تالاب موجود نہیں، وہاں جانوروں کے لیے ماحول انتہائی تناؤ والا بن جاتا ہے۔ پانی کے ذرائع کی کمی اور بخارات کی شرح میں اضافے سے جانوروں میں پانی کی کمی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔
شدید گرمی کے دوران چڑیا گھر کے منتظمین کو اضافی اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں جن میں اضافی پانی، سایہ اور کولنگ آلات فراہم کرنا شامل ہے۔ اس سے وسائل اور منصوبہ بندی پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ گرمی کی وجہ سے جانوروں کی سرگرمی کم ہو رہی ہے اور ان کے کھانے پینے کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں جو افزائش نسل کے پروگراموں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
دہلی اور دیگر علاقوں کے چڑیا گھروں میں گرمی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیاں اپنائی جا رہی ہیں جن میں سایہ دار انکلوژرز بنانا، مسٹنگ اور کولنگ سسٹم نصب کرنا اور جانوروں کے جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے آبی ذخائر بنانا شامل ہیں۔
شدید گرمی دہلی کے چڑیا گھروں میں جانوروں کی صحت، رویے اور تحفظ کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے والے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے تاکہ شہری جنگلی حیات کو محفوظ رکھا جا سکے۔