65 سال بعد امریکی فوج میں سزائے موت پر عملدرآمد کی تیاری، رپورٹ

Executions Death Executions Death

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی نشریاتی ادارے ABC News کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج 1961 کے بعد پہلی مرتبہ سزائے موت کے قیدی فوجیوں کو پھانسی دینے کی تیاری کر رہی ہے، بشرطیکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی منظوری دیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “آپریشن ریزولوٹ جسٹس” کے نام سے ایک داخلی منصوبہ فروری میں فوجی اداروں کے درمیان گردش کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت صدر کی منظوری ملنے کے بعد 150 دن کے اندر سزاؤں پر عملدرآمد کے لیے فوج کو تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ منصوبے میں سزائے موت کے طریقۂ کار کا جائزہ لینے اور کینساس میں واقع فورٹ لیون ورتھ کی فوجی جیل سے چار سزائے موت کے قیدیوں کو انڈیانا کے وفاقی پھانسی مرکز منتقل کرنے کی تیاری شامل ہے۔ امریکی فوج کی ترجمان سنتھیا اسمتھ نے ان تیاریوں کو معمول کی منصوبہ بندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی مخصوص پھانسی کے حکم کی منظوری نہیں دی۔ گزشتہ سال امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سابق فوجی میجر ندال حسن کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے صدارتی منظوری حاصل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ ندال حسن کو 2009 میں فورٹ ہُڈ فائرنگ میں 13 افراد کے قتل اور 32 کو زخمی کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

دیگر تین فوجی قیدیوں میں حسن اکبر، رونالڈ گرے اور ٹموتھی ہینس شامل ہیں، جنہیں متعدد منصوبہ بند قتل کے مقدمات میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں 13 وفاقی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا تھا، جو جدید امریکی تاریخ میں کسی بھی ایک صدارتی مدت کے دوران سب سے زیادہ تعداد سمجھی جاتی ہے۔ 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے 2021 میں عائد کردہ وفاقی پھانسیوں پر پابندی بھی ختم کر دی تھی۔