چکوال(صداۓ روس)
پنجاب کے ضلع چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک اوورسیز پاکستانی خاندان کی 9 سالہ بچی جاں بحق جبکہ اس کا والد اور بھائی شدید زخمی ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گاؤں دھودیال کے رہائشی 39 سالہ عدیل احمد، جو آسٹریلوی شہریت رکھتے ہیں، اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان اور بچوں کے ہمراہ حال ہی میں پاکستان آئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ حج کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچے تھے اور اہلِ خانہ نے ان کی واپسی پر ایک عشائیہ رکھا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بدھ کی رات عدیل احمد اپنے خاندان کے ساتھ رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں موٹر سائیکل سوار دو مسلح افراد نے ان کی اہلیہ سے قیمتی زیورات چھین لیے۔ اسی دوران سی سی ڈی کے اہلکاروں اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع کے مطابق فائرنگ شروع ہوتے ہی عدیل احمد نے اپنی فیملی کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے گاڑی آگے بڑھائی، تاہم اہلکاروں نے مبینہ طور پر گاڑی کو مشتبہ سمجھتے ہوئے اس پر فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد موقع پر جاں بحق ہو گئی، جبکہ عدیل احمد اور ان کے بیٹے عفان احمد شدید زخمی ہوئے۔ دونوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد راولپنڈی منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ عدیل احمد کو بعد ازاں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ ان کا بیٹا اب بھی زیرِ علاج بتایا جاتا ہے۔
واقعے کے بعد عوامی اور اوورسیز پاکستانی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔ متعلقہ افسران نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں احتیاط، تربیت اور جوابدہی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان اور عوام انصاف کے منتظر ہیں۔