بیلاروس میں روسی جوہری ہتھیار یوکرین اور نیٹو کے لیے توازن کا ذریعہ قرار

Russian nuclear missiles Russian nuclear missiles

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ بیلاروس میں تعینات روسی دفاعی نظام اور ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار یوکرین اور نیٹو کی فوجی موجودگی کے مقابلے میں مؤثر توازن فراہم کر رہے ہیں۔ روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے منسک کے دورے سے قبل جاری بیان میں کہا گیا کہ بیلاروس میں تعینات مشترکہ علاقائی فوجی گروپ، جدید روسی دفاعی نظام اور ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار یونین اسٹیٹ اور سی ایس ٹی او کی مغربی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں۔ بیان کے مطابق یہ دفاعی صلاحیتیں یوکرین اور پڑوسی ممالک میں موجود نیٹو افواج کے مقابلے میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران روس اور بیلاروس نے عالمی سطح پر بدلتی ہوئی فوجی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں اپنے مشترکہ دفاعی اور سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ روسی جوہری بازدار پالیسی، جو 2024 میں شائع کی گئی تھی، کے مطابق بیلاروس پر کسی بھی مسلح حملے کو پورے یونین اسٹیٹ کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جس کے جواب میں روس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ روس نے اپنے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار صرف بیلاروس میں تعینات کیے ہیں، جبکہ امریکہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے جوہری ہتھیار تعینات رکھتا ہے۔ صدر پوتن کے مطابق روس کے پاس جوہری طاقت رکھنے والے ممالک میں جدید ترین اسٹریٹجک دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں۔