کیا برطانیہ خوف کی سیاست کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے؟


— اشتیاق ہمدانی

لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں یہودی برادری کے افراد پر حملہ صرف ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ برطانیہ کے اندر بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی، عدم اعتماد اور خوف کی سیاست کی ایک علامت بن چکا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد حکومتیں عموماً قومی سلامتی، دہشت گردی، بیرونی خطرات اور سخت اقدامات کی زبان استعمال کرتی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ صرف بیرونی خطرات کا ہے یا برطانوی معاشرہ اندر سے بھی ایک گہرے بحران سے گزر رہا ہے؟

برطانیہ میں یہودی برادری پر حملے ہوں، مساجد کو نشانہ بنایا جائے، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلیں یا ایرانی نژاد افراد اور حکومتِ ایران کے مخالفین پر حملوں کی خبریں سامنے آئیں، ہر واقعہ ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ ایک طرف حکومت سلامتی کے نام پر سخت قوانین کی بات کرتی ہے، دوسری طرف مختلف کمیونٹیز یہ محسوس کرتی ہیں کہ انہیں برابر کا تحفظ نہیں مل رہا۔

گولڈرز گرین میں یہودی برادری پر حملے نے بجا طور پر خوف پیدا کیا۔ کسی بھی مذہبی یا نسلی برادری پر حملہ صرف اس کمیونٹی پر نہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن پر حملہ ہوتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد ریاست کا ردِعمل اکثر یکطرفہ دکھائی دیتا ہے۔ جب یہودی برادری پر حملہ ہو تو فوری طور پر قومی سلامتی کی بحث شروع ہو جاتی ہے، لیکن جب مساجد پر حملے ہوتے ہیں، مسلمانوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں یا اسلامی مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہی شدت، وہی سیاسی سنجیدگی اور وہی ریاستی زبان کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔

حالیہ برسوں میں برطانیہ کی مختلف مساجد پر حملوں، توڑ پھوڑ، نفرت انگیز نعروں اور دھمکیوں کی مثالیں سامنے آتی رہی ہیں۔ کئی مقامات پر نمازیوں کو خوف کے ماحول میں عبادت کرنا پڑی۔ گلاسگو میں کشیدگی کے دوران نمازیوں کو مسجد کے اندر حفاظتی طور پر روکنا پڑا۔ یہ منظر کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے کہ عبادت گاہیں، خواہ وہ مسجد ہو، کنیسہ ہو، چرچ ہو یا مندر، خوف کے حصار میں کیوں آ رہی ہیں؟

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا برطانوی ریاست تمام کمیونٹیز کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہی ہے؟ اگر یہودی برادری کے خلاف نفرت ناقابل قبول ہے، تو مسلمانوں کے خلاف نفرت بھی اسی طرح ناقابل قبول ہونی چاہیے۔ اگر کسی ایرانی نژاد شہری یا حکومتِ ایران کے مخالف کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ریاست کو اس کے تحفظ کی بھی ضمانت دینی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پورے ایرانی، مسلمان یا مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے طبقے کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔

IRGC کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی بحث اسی حساس ماحول میں ہو رہی ہے۔ برطانوی حکومت کے نزدیک یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہو سکتا ہے، مگر اس فیصلے کے سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ برطانیہ میں ایرانی نژاد شہری، مسلمان کمیونٹیز، عرب، پاکستانی، کشمیری، ترک اور دیگر مشرقی پس منظر رکھنے والے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اگر ریاستی پالیسی احتیاط، شفافیت اور انصاف کے بجائے عمومی شک، نگرانی اور سختی پر مبنی ہو گی تو اس سے انتہا پسندی کم نہیں ہو گی بلکہ بداعتمادی بڑھے گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ برطانیہ کو سکیورٹی خطرات درپیش ہیں۔ یہودی برادری کے خلاف حملے، مساجد پر حملے، نفرت انگیز جرائم، ایرانی مخالفین سے متعلق خدشات اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں سب تشویش ناک ہیں۔ مگر خطرہ صرف اس وقت کم ہو گا جب ریاست ہر مظلوم کمیونٹی کے ساتھ یکساں کھڑی ہو۔ اگر ایک کمیونٹی کے درد کو قومی مسئلہ اور دوسری کے درد کو مقامی واقعہ سمجھا جائے تو انصاف کا توازن ٹوٹ جاتا ہے۔

برطانیہ کا بڑا بحران صرف دہشت گردی یا انتہا پسندی نہیں بلکہ اعتماد کا بحران ہے۔ عوام کو لگتا ہے کہ حکومت معاشی مسائل حل نہیں کر پا رہی۔ مہنگائی، رہائش کا بحران، صحت کے نظام کی کمزوری اور روزگار کی غیر یقینی صورتحال نے عام شہری کو پریشان کر رکھا ہے۔ ایسے میں جب حکومت بار بار بیرونی دشمن، قومی خطرہ اور سکیورٹی قوانین کی بات کرتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں داخلی ناکامیوں کو بیرونی خطرات کے پردے میں تو نہیں چھپایا جا رہا؟

تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستیں داخلی بحرانوں کا سامنا کرتی ہیں تو بعض اوقات بیرونی دشمن کی تصویر کو بڑا کر دیتی ہیں۔ اس سے وقتی طور پر عوامی توجہ بدل جاتی ہے، مگر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اگر لوگوں کے گھر کا کرایہ بڑھ رہا ہو، علاج مشکل ہو، آمدنی کم ہو، روزگار غیر محفوظ ہو اور محلے میں نفرت بڑھ رہی ہو تو صرف دفاعی بجٹ، سخت قانون یا بیرونی دشمن کا بیانیہ معاشرے کو محفوظ نہیں بنا سکتا۔

برطانوی سیاست کا دو جماعتی نظام بھی اسی بحران کا حصہ ہے۔ کنزرویٹو اور لیبر دونوں جماعتیں عوام کو مکمل اعتماد نہیں دلا پا رہیں۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ چہرے بدلتے ہیں، مگر پالیسیوں کا رخ نہیں بدلتا۔ اسی خلا سے سخت گیر سیاسی آوازیں جنم لیتی ہیں، جو کبھی امیگریشن کو مسئلے کی جڑ قرار دیتی ہیں، کبھی مسلمانوں کو، کبھی پناہ گزینوں کو، کبھی ایران، روس یا کسی اور بیرونی طاقت کو۔

حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کو دشمن کی تلاش سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ مساجد پر حملے ہوں یا یہودی مراکز پر، ایرانی مخالفین کو دھمکیاں ملیں یا مسلمان خاندانوں کو نفرت کا سامنا ہو، ہر واقعہ ریاست سے ایک ہی سوال پوچھتا ہے: کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟

اگر جواب ہاں ہے تو پھر ہر عبادت گاہ کو تحفظ ملنا چاہیے۔ ہر شہری، خواہ وہ مسلمان ہو، یہودی ہو، ایرانی نژاد ہو، عرب ہو، پاکستانی ہو یا مقامی برطانوی، اسے برابر کا شہری سمجھا جانا چاہیے۔ اگر جواب کمزور ہے تو پھر مسئلہ صرف سکیورٹی کا نہیں، ریاستی اخلاقیات کا بھی ہے۔

برطانیہ آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے خوف کی سیاست اور انصاف کی سیاست میں سے انتخاب کرنا ہے۔ خوف وقتی طور پر حکومتوں کو مضبوط دکھا سکتا ہے، مگر انصاف ہی معاشرے کو مضبوط بناتا ہے۔ بیرونی دشمن کا بیانیہ عوام کو کچھ دیر کے لیے خاموش کر سکتا ہے، مگر اعتماد صرف تب بحال ہوتا ہے جب ریاست اپنے شہریوں کے درد کو برابر اہمیت دے۔

گولڈرز گرین، مساجد پر حملے، ایرانی نژاد افراد کے خلاف تشدد کے خدشات اور بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم، یہ سب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی بحران کے مختلف چہرے ہیں۔ یہ بحران بتاتا ہے کہ برطانیہ کو صرف پولیس، خفیہ اداروں اور سخت قوانین کی نہیں بلکہ سماجی انصاف، سیاسی شفافیت اور برابر کے تحفظ کی ضرورت ہے۔

جب تک ریاست ہر کمیونٹی کو یکساں تحفظ، یکساں عزت اور یکساں انصاف نہیں دے گی، تب تک سلامتی کا کوئی بھی بیانیہ مکمل نہیں ہو گا۔ اصل امن اس وقت آئے گا جب برطانیہ دشمن تلاش کرنے کے بجائے اپنے اندر موجود نفرت، ناانصافی اور بداعتمادی کا علاج کرے گا۔