ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا مجوزہ معاہدہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات اور دائرہ کار میں اسرائیل، لبنان اور خلیجی ممالک بھی شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ ایک وسیع علاقائی امن منصوبہ ہے جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی صحافی میگن کیلی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ محض دو طرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ایک مکمل علاقائی امن معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں خلیجی خطہ، اسرائیل اور لبنان بھی شامل ہوں گے اور بنیادی مقصد پورے خطے میں امن و سلامتی کا نیا فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ امریکی نائب صدر کے مطابق حالیہ سفارتی پیش رفت نے خطے میں تنازعات کے حل کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے اور مختلف فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات مستقبل میں مزید استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا، ایران اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے سرکاری نمائندے اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک مفاہمت طے پا چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں باضابطہ دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی، سلامتی اور اقتصادی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔